صدرِ جامعہ الازہر ڈاکٹر سلامہ داؤد کی بلاغتِ نبوی ﷺ اور حکمت اختیار کرنے کی تلقین

جامعہ الازہر مصر کے سربراہ و صدرِ جامعہ پروفیسر ڈاکٹر سلامہ داؤد نے علمی و دعوتی خطابات میں رسول اللہ ﷺ کے بلیغ، فصیح اور حکیمانہ منہج کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دورِ حاضر کے چیلنجز کے پیشِ نظر ایک عالم، مفتی اور داعی کو فصاحت و بلاغت، حکمت اور کلام کی نفاست کے اعلیٰ ترین معیار کا پیکر ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر سلامہ داؤد نے واضح کیا کہ جب کسی عالم سے کوئی سوال پوچھا جائے تو اس کا جواب محض سوال کے دائرے تک محدود اور خشک نہیں ہونا چاہیے، بلکہ جواب سائل کی توقع سے بڑھ کر ایسا ہونا چاہیے جو شرعی حکم کی وضاحت کے ساتھ ساتھ تفصیلی علمی، فکری اور روحانی رہنمائی پر بھی مشتمل ہو۔ یہی وہ نبوی اسلوبِ ابلاغ ہے جو گہرائی، رحمت اور علمی سخاوت کا مظہر ہے۔

اس علمی ملاقات کے دوران جامعہ الازہر کے سینئر اساتذہ، پروفیسر ڈاکٹر عادل ہندی اور پروفیسر احمد فوزی نے پروفیسر ڈاکٹر عزیر محمود الازہری کی شاندار علمی شخصیت، تدریسی خدمات اور تحقیقی کارناموں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، اور پاکستان میں مستند اسلامی علوم کے فروغ کے لیے ان کے اخلاص کو سراہا۔

img2
 

ڈاکٹر سلامہ داؤد نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ الازہر کے عظیم اساتذہ اور علماء کی میزبانی کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ جامعہ الازہر کے علماء نہ صرف مختلف فنون اور علوم میں یکتائے روزگار ہیں، بلکہ وہ انکساری، للہیت، سادگی اور حسنِ اخلاق کے بھی درخشاں نمونے ہیں۔ سچا علم وہ ہے جس کے ساتھ عاجزی اور اخلاص ہو۔

ملاقات کے اختتام پر صدرِ جامعہ الازہر نے ڈاکٹر عزیر محمود الازہری کی جانب سے علمی تصانیف اور کتب کے قیمتی تحفے کی پیشکش پر دلی تشکر اور مسرت کا اظہار فرمایا، اور باہمی علمی و تحقیقی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا۔

یہ تاریخی نشست الازہر الشریف کے اس علمی و روحانی امتیاز کی آئینہ دار ہے جس میں علمی بلندی اور فکری انکساری یکجا نظر آتی ہے، اور خدمتِ دین کے میدان میں ڈاکٹر عزیر محمود الازہری کی گراں قدر خدمات کا اعتراف ہے۔