دورِ حاضر میں جہاں روحانی روایات اور تصوف کے حوالے سے طرح طرح کے شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں، وہیں جامعہ الازہر مصر میں تصوف و اسلامی فلسفے کے مایہ ناز استاد پروفیسر ڈاکٹر محمد مہنا کی جانب سے ایک نہایت وقیع، مدلل اور عالمانہ جواب سامنے آیا ہے۔ تصوف کے معترضین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے ایک ایسا عمیق استدلال پیش کیا جو نہ صرف تصوف کا دفاع کرتا ہے بلکہ اسے اسلامی اخلاق اور کردار سازی کا بنیادی جوہر ثابت کرتا ہے۔
عبادات کے باضابطہ تعین سے قبل کا تصوف
ڈاکٹر مہنا نے ایک نہایت مضبوط تاریخی اور قرآنی حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کی بعثت اور اعلانِ نبوت سے قبل رسمی عبادات — جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ — ابھی فرض نہیں ہوئی تھیں۔ اس ابتدائی مکی دور میں بھی حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی بے داغ اور کامل ترین کردار کا روشن ترین نمونہ تھی۔
- سچائی اور راست بازی (صدق)
- دیانت اور امانت داری (امانت)
- عہد کی پاسداری اور وفا
- تمام انسانیت کے ساتھ بے لوث شفقت اور خیر خواہی
آپ ﷺ نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں، یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکین کے ساتھ بھی حسنِ اخلاق کا وہ اعلیٰ معیار قائم فرمایا جس کے دشمن بھی معترف تھے۔ یہ صفات باطنی پاکیزگی اور اخلاقی تہذیب پر مبنی تھیں — جسے تصوف کی اصطلاح میں "تزکیۂ نفس" کہا جاتا ہے۔
تصوف کی اصل حقیقت و روح
ڈاکٹر مہنا نے دلائل سے ثابت کیا کہ تصوف اسلام میں کوئی نئی ایجاد یا بعد کی پیوند کاری نہیں ہے، بلکہ یہ دین کی اصل روح اور باطنی جہت ہے۔ یہ اس روحانی تربیت کا نام ہے جو انسان کے اخلاق کو سنوارتی ہے اور اعمال میں خلوص و للہیت پیدا کرتی ہے۔ تصوف اعمال سے پہلے دل کی درستی اور رسوم سے پہلے کردار کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
پاکستانی علماء پر گہرے فکری اثرات
ڈاکٹر مہنا کے اس متوازن، محققانہ اور محبت بھرے اسلوب نے پاکستان سے آئے ہوئے علماء اور روحانی رہنماؤں کے وفد پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کے بیان نے تصوف کے گرد بنے گئے مصنوعی اعتراضات کے پردے چاک کر دیے۔
ڈاکٹر عزیر محمود الازہری کا کلیدی کردار
اس فکری اور علمی تبادلے میں ڈاکٹر عزیر محمود الازہری نے ایک نمایاں اور تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ آپ نے جامعہ الازہر اور پاکستان کے درمیان علمی روابط کو مضبوط کرتے ہوئے اپنے والدِ گرامی کی کتاب "صوفیائے نقشبند" کا عربی ترجمہ اور اپنی تصنیف "حقیقتِ امن اور دہشت گردی" ڈاکٹر محمد مہنا کو پیش فرمائیں۔ اس پروقار تحفے کو ڈاکٹر محمد مہنا نے بے حد سراہا اور دونوں ممالک کے علمی تعلقات میں مزید گرمجوشی پیدا ہوئی۔
حاصلِ کلام
ڈاکٹر محمد مہنا کی یہ بصیرت افروز گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تصوف محض چند اصطلاحات کا نام نہیں بلکہ یہ اسلام کی زندہ جاوید روح ہے۔ ظاہری عبادات کی تکمیل سے پہلے انسان کو اپنی انسانیت اور اخلاق کو کامل بنانا ہوگا — کیونکہ دین کا آغاز دل سے ہوتا ہے اور اس کا اظہار پاکیزہ کردار سے ہوتا ہے۔