ڈاکٹر عزیر محمود الازہری
(ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان و صدر ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس پاکستان)
طلبہ کے تعلیمی معیار کے جائزے اور ان کی رہنمائی کے دوران ڈاکٹر عزیر نے اس انقلابی حقیقت پر زور دیا کہ علم کو ہمیشہ فہم، تدبر اور تحقیق کے ساتھ پڑھنا چاہیے، نہ کہ محض اندھا دھند رٹا لگایا جائے۔ انہوں نے طلبہ کو متوجہ کیا کہ ہمارے موجودہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ نظامِ تعلیم میں تنزلی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ یہاں عملی فہم اور روزمرہ زندگی کی مثالوں سے سمجھانے کے بجائے طوطا چشم رٹہ لگانے پر سارا زور دیا جاتا ہے۔
انہوں نے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس کے برعکس او لیولز اور اے لیولز (O & A Levels) جیسے بین الاقوامی تعلیمی نظام طلبہ کے اندر تنقیدی فہم، فکری آزادی اور حقائق کو عقلی و عملی بنیادوں پر سمجھنے کی صلاحیت بیدار کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بدولت مغربی دنیا سائنسی اور علمی میدان میں آگے نکل رہی ہے، جبکہ ہم محض الفاظ کی تکرار میں پھنس کر پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عزیر نے اساتذہ اور طلبہ دونوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی تدریس اور مطالعے میں گہرے فہم کو ترجیح دیں تاکہ وہ مستقبل میں باصلاحیت، خود اعتماد اور معاشرے کے لیے مفید اور فعال رہنما بن سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم کی گہرائیوں کو سمجھنے اور فہم و تدبر کی دولت سے مالامال ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔