حیدرآباد – قطبِ وقت حضرت خواجہ خواجگان شاہ مفتی محمد محمود الواری رحمہ اللہ علیہ کے عرسِ مبارک کے پرنور موقع پر ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری (ڈائریکٹر المؤسسۃ العلمیۃ العصریۃ) نے ایامِ علالت اور صحت یابی کے بعد اپنا پہلا پرجوش اور روحانی خطاب فرمایا — جو شکر گزاری اور جذبات سے لبریز تھا۔

اللہ رب العزت کا شکر بجا لانے اور اپنے پیارے طلبہ، مریدین، متوسلین، علماء کرام اور خصوصاً اپنے والدینِ کریمین کی مسلسل دعاؤں کا دلی شکریہ ادا کرنے کے بعد ڈاکٹر عزیر الازہری نے قرآنی آیتِ مبارکہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کے عمیق فلسفے پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے واضح فرمایا کہ کوئی انسان حقیقت میں "لائقِ حمد" (قابلِ تعریف) اسی وقت بنتا ہے جب اللہ کی عطا کردہ نعمتیں اور صلاحیتیں — خواہ وہ علم ہو، روحانیت ہو، اقتدار ہو یا دیگر اوصاف — درست طریقے سے خلقِ خدا کے فائدے کے لیے استعمال اور منتقل کی جائیں۔ تب اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت اور تعریف پیدا فرما دیتا ہے۔

img1

 

اس کے برعکس جب الٰہی نعمتوں کو غلط استعمال یا ضائع کیا جائے تو انسان "لائقِ ذم" (قابلِ ملامت) بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر عزیر نے واضح مثالوں کے ذریعے سمجھایا کہ جن لوگوں کو علم، وسائل یا حکومت ملی اور انہوں نے اسے ظلم اور منفی مقاصد کے لیے استعمال کیا — خواہ وہ اسرائیل میں ہوں یا پاکستان میں — وہ دنیا کی نظروں میں بھی ذلیل ہوئے اور عذابِ الٰہی کے بھی مستحق بنے۔

آپ کا یہ خطاب خصوصاً مستقبل کے علماء اور طلبہ کے لیے ایک مشعلِ راہ تھا، جس میں انہیں یاد دلایا گیا کہ وہ علم، روحانیت اور صلاحیتوں کو اخلاص اور دیانت کے ساتھ آگے منتقل کرنے کی امانت داری نبھائیں تاکہ وہ عند اللہ اور عند الناس لائقِ حمد ٹھہریں۔

مجلس کے اختتام پر ڈاکٹر عزیر محمود الازہری نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی الدین قادری سے پرخلوص ملاقات فرمائی اور انہیں علمی کتب کا تحفہ پیش کیا، جو باہمی علمی احترام اور محبت کا مظہر تھا۔

img23