بیان و تحقیق: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: الرابطة العالمية لخريجي الأزهر – پاکستان برانچ، ڈائریکٹر: المؤسسة العلمية العصرية)
کلمہِ "الحمد للہ" محض زبان سے ادا ہونے والا ایک جملہ نہیں بلکہ انسانی شعور، ادراک اور ذہنی سکون کی معراج ہے۔ قرآنِ مجید کے آغاز میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ کی ابتدا حمد سے فرمائی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسانی فکر اور عقل کا اصل کمال اپنے خالقِ حقیقی کے شکر اور احسان مندی کے اعتراف میں مضمر ہے۔
شکر اور ذہنی صلاحیت کا باہمی ربط
جدید نفسیات اور نیورو سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ شکر گزاری انسان کے دماغی دباؤ اور بے چینی کو ختم کر کے ذہنی یکسوئی اور فکری وسعت پیدا کرتی ہے۔ قرآنِ حکیم نے چودہ سو سال قبل اس حقیقت کو قانونِ الٰہی کے طور پر بیان فرمایا: ﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾ (اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں ضرور اور زیادہ دوں گا)۔ یہ اضافہ نہ صرف رزق اور نعمتوں میں ہے بلکہ عقل، فہم، بصیرت اور ذہنی صلاحیتوں میں بھی ہے۔
اس بیان کے اہم فکری و روحانی نکات:
- فکری بیداری اور تدبر: الحمد للہ کے ذریعے انسان غفلت کے پردوں سے نکل کر کائنات اور اپنی ذات میں غور و فکر کی دولت پاتا ہے۔
- ذہنی و قلبی طمانیت: شکر گزاری انسان کو تکبر، مایوسی اور ذہنی پراگندگی سے محفوظ رکھ کر اندرونی سکون عطا کرتی ہے۔
- سورۃ الفاتحہ کا پیغام: روزمرہ کی نمازوں میں بار بار حمد کا اعادہ دراصل ذہن اور روح کی تجدیدِ نو کا ذریعہ ہے۔
یہ ویڈیو ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو قرآنی رہنمائی کی روشنی میں اپنی ذہنی، فکری اور روحانی صلاحیتوں کو نکھارنا چاہتا ہے۔