تحریر: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری

لفظ "ماعون" لغوی اعتبار سے چھوٹی چھوٹی اشیاء، روزمرہ کی ضرورت کی چیزوں یا برتنوں کے عاریتاً دینے کو کہا جاتا ہے۔ سورۃ الماعون بلاغت اور فصاحت کے اعلیٰ ترین اسلوب میں ان منافقین کے تضاد کو بے نقاب کرتی ہے جو بظاہر نمازیں پڑھتے ہیں لیکن دین کی اصل روح — یعنی انسانی ہمدردی، یتیموں کی دستگیری اور محتاجوں کی مدد — سے مکمل غافل ہیں۔ فعل "يُكَذِّبُ" (جھٹلاتا ہے) ایمان کے انکار کو سماجی ظلم اور لاپرواہی سے جوڑ کر یہ واضح کرتا ہے کہ قرآن کے نزدیک ایمان محض ظاہری رسوم کا نام نہیں بلکہ عملی کردار اور خدمتِ خلق کے توازن کا نام ہے۔