مطالعۂ سیرت و معاصر فکری شعور: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ رکن: اسلامی نظریاتی کونسل)
تاریخِ اسلام میں غزوہ بدر کو یوم الفرقان کا مقام حاصل ہے، جہاں حق اور باطل کے درمیان واضح فیصلہ ہوا۔ 313 کے بے سر و سامان اور نہتے لشکر نے کفر کے منظم اور جدید ترین لشکر کو شکستِ فاش دی۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اپنے اس فکر انگیز خطاب میں واضح فرمایا کہ بدر کا پیغام محض ماضی کی ایک داستان نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے عالمی جنگی بحرانوں میں امتِ مسلمہ کے لیے ایک ہمہ گیر مشعلِ راہ ہے۔
مادی قوت اور ایمانی طاقت کا تقابل:
بدر کی فتح نے ثابت کر دیا کہ اصل طاقت صرف مادی اسلحے اور وسائل کی کثرت میں نہیں، بلکہ ایمان کی پختگی، مقصد سے اخلاص اور ربِ کریم کی نصرت پر کامل توکل میں مضمر ہے۔ جب تک باطنی قوت بیدار نہ ہو، مادی وسائل نصرت کا ضامن نہیں بن سکتے۔
بدر کے لازوال اسباق برائے معاصر امت:
- تدبیر اور توکل کا حسین امتزاج: حضورِ اکرم ﷺ نے تمام ممکنہ جنگی تدابیر اختیار فرمائیں، صف بندی کی، اور پھر رات بھر گریہ و زاری کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ پھیلائے۔
- اتحاد اور یکجہتی: داخلی انتشار اور فرقہ واریت بیرونی دشمن سے کہیں زیادہ مہلک ہوتی ہے۔ بدر کے مجاہدین ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے۔
- جنگ میں اخلاقی حدود کی پاسداری: اسلام نے جنگ کے دوران بھی عدل، قیدیوں سے حسنِ سلوک اور غیر جنگجوؤں کے تحفظ کا اعلیٰ ترین معیار قائم کیا۔
- مایوسی کا خاتمہ: حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں، اللہ کی نصرت کا یقین کبھی مت چھوڑیں۔
حاصل کلام:
آج بھی اگر امتِ مسلمہ اپنی صفوں میں اتحاد، سیرتِ نبوی کے اصولوں پر عمل اور اخلاص پیدا کر لے تو بدر کی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور ہمیں سرخرو کرے۔ آمین۔