ڈاکٹر عزیر محمود الازہری (صدر رکن الاسلام ایجوکیشنل سوسائٹی و ڈائریکٹر المؤسسۃ العلمیۃ العصریۃ) نے رکن الاسلام کے فارغ التحصیل علماء کرام اور اپنے باصلاحیت شاگردوں کے اعزاز میں درگاہِ عالیہ قطبِ وقت حضرت شاہ مفتی محمد محمود الواری رحمہ اللہ علیہ پر ایک پروقار اور پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا۔
اس روحانی و فکری مجلس میں ڈاکٹر عزیر نے دورِ حاضر کے فتنوں — بالخصوص سوشل میڈیا پر پھیلنے والے ملحدانہ افکار، عقیدہ توحید کے حوالے سے شکوک و شبہات اور اولیاء اللہ کی شان میں گمراہ کن پروپیگنڈے — کے مقابلے میں ایمان اور عقائد کی حفاظت پر گراں قدر رہنمائی فرمائی۔
1) باقاعدہ تربیتی نصاب کی ضرورت:
آپ نے دینی مدارس، اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں باضابطہ تربیتی نصاب نافذ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نسلِ نو کی تربیت سے قبل اساتذہ اور علماء کو اپنی عملی زندگی سنتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھالنی ہوگی اور پھر دلائل و منطق کے ساتھ ان حقائق کو جدید اذہان کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
2) رکن الاسلام کی فکری و تعلیمی خدمات:
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اسی مقصد کے تحت جامعہ رکن الاسلام مجددیہ کراچی میں ایک ایسا مثالی پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے جہاں جامعہ الازہر مصر کے عالمی معیار کا نصاب بھی پڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کراچی برانچ کے ایک ہونہار طالب علم کی مثال دی جس نے جامعہ کراچی کے ایک سیمینار میں — جہاں الحادی سوچ کے حامل افراد عقل کو شریعت پر حاکم قرار دے رہے تھے — دلائل و براہین کے ساتھ دینِ حق کا بھرپور دفاع کیا اور باطل نظریات کو شکست دی۔
3) مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ:
ڈاکٹر عزیر نے علماء اور محققین کو متنبہ کیا کہ یہ دور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے۔ اگر ہم اپنا پیغام عالمی سطح تک پہنچانا چاہتے ہیں تو جدید ٹیکنالوجی سے ناطہ جوڑنا اور اس کا مثبت، مؤثر استعمال سیکھنا ازحد ضروری ہے۔
4) طلبہ کے لیے تشکر اور دعائیں:
آخر میں ڈاکٹر عزیر نے اپنے تلامذہ کی محبت اور وفاداری پر مسرت کا اظہار کیا اور ایامِ علالت میں دعاؤں اور مشن کے ساتھ وابستگی پر سب کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب رکن الاسلام کی درخشاں روایت اور ان کے والدِ گرامی ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر دامت برکاتہم العالیہ کی دعاؤں کا ثمر ہے۔
اللہ تعالیٰ ان خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر استقامت بخشے۔ آمین۔