معاشرے میں تعلیم اور تربیت کی بنیادی اہمیت
علم کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے — لیکن جب علم کو اخلاقی تربیت اور باطنی تزکیے کا ساتھ میسر نہ ہو، تو اس کے حقیقی فیوض و برکات معاشرے تک نہیں پہنچ پاتے۔ علم ایک نور ہے، مگر تربیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اس نور کو حکمت و خیر کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے۔ جب کوئی انسان علم تو حاصل کر لے مگر اس کے کردار میں حسنِ عمل نہ ہو، تو ایسا علم بسا اوقات معاشرے میں بگاڑ اور خلفشار کا سبب بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف اور اکابرین نے ہمیشہ تعلیم اور تربیت کو لازم و ملزوم قرار دیا۔

جامعہ رکن الاسلام مجددیہ کراچی میں باوقار فکری و تربیتی نشست
اسی ہمہ گیر وژن کے تحت جامعہ رکن الاسلام مجددیہ کراچی میں اساتذہ اور طلبہ کے لیے ایک خصوصی تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس کی صدارت جامعہ کے پرنسپل ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے فرمائی۔ طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیر نے اس اہم ترین سوال کو اجاگر کیا کہ دورِ حاضر میں ہمیں کس قسم کے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے اور ہم کس طرح علم کو کردار سازی سے جوڑ کر ایک مثالی اور پرامن معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عزیر محمود الازہری کا تعارف و خدمات
ڈاکٹر عزیر محمود الازہری ایک جید اسلامی مفکر اور محقق ہیں جو تعلیم، قیامِ امن اور بین المسالک اتحاد کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل ہیں۔ آپ ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان، صدر ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس (پاکستان برانچ)، اور ڈائریکٹر رکن الاسلام ایجوکیشنل سوسائٹی سمیت متعدد قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

ایک ایسے عظیم علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھنے کی بدولت جہاں علم اور تصوف کا امتزاج پایا جاتا ہے، ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر روایتی علوم اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

آج ہمیں کس نوعیت کی تعلیم کی ضرورت ہے؟
نشست کے دوران ڈاکٹر عزیر نے زور دیا کہ ہمیں ایک ایسے جامع اور متوازن تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو دینی اور دنیاوی علوم کو باہم مربوط کرے۔ ایسا نظام جو محض ڈگریاں نہ بانٹے بلکہ ایسے باکردار اور باصلاحیت افراد تیار کرے جو معاشرے اور امت کے لیے مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔

تربیت کی اہمیت و ناگزیریت
انہوں نے واضح فرمایا کہ اگر استاد بذاتِ خود اخلاقی اور روحانی قدروں کا پیکر نہ ہو تو وہ امتحان پاس تو کروا سکتا ہے لیکن طالب علم کے کردار کی تعمیر نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اساتذہ خود کو مسلسل تربیت کے عمل سے گزاریں تاکہ وہ طلبہ کے لیے عملی رول ماڈل بن سکیں۔

حاصلِ کلام
علم اسی وقت سودمند ہے جب وہ ہمارے اخلاق کو سنوارے، اور کردار اسی وقت قیمتی ہے جب وہ دنیا میں امن و عدل کی شمع روشن کرے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عزیر محمود الازہری کی ان علمی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمیں علمِ نافع اور حسنِ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔