فکری و سماجی جائزہ: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))

دنیا بھر میں امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے عنوان پر سالانہ بیسیوں بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں، مگر اس کے باوجود دنیا انتشار اور جنگوں کا شکار ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس اہم مسئلے پر مدلل گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حقیقی امن کا سرچشمہ کیا ہے۔

صرف کانفرنسز ناکافی کیوں ہیں؟

ڈاکٹر عزیر محمود الازہری نے فرمایا کہ کانفرنسیں اور سیمینارز مکالمے کا ایک ذریعہ ضرور ہیں، لیکن اگر ان کے پیچھے عدل و انصاف کی فراہمی، انسانی مساوات کا احترام اور دلوں کی اصلاح نہ ہو تو وہ فقط کاغذی قراردادوں تک محدود رہ جاتی ہیں۔ اسلام امن کا تصور انفرادی کردار اور اجتماعی انصاف کے باہمی اشتراک سے پیش کرتا ہے۔

خطاب کے کلیدی نکات:

  • عدل کے بغیر امن ناممکن: جب تک کمزوروں کے حقوق غصب ہوتے رہیں گے، امن کی دعائیں بے اثر رہیں گی۔
  • سیرتِ نبوی کا عملی منہج: رسول اللہ ﷺ نے میثاقِ مدینہ اور صلحِ حدیبیہ کے ذریعے باہمی اعتماد اور عملی اقدامات کی بنیاد رکھی۔
  • بنیادی سطح پر تربیت: خاندان اور معاشرے میں اخلاقی اقدار اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔