فقہی و روحانی درس: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))
عید الاضحیٰ کے ایام محض جانور ذبح کرنے اور لذیذ پکوان کھانے کا نام نہیں بلکہ یہ جذبہ ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی تجدید کا دن ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا: یَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ (یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ (یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں)۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس حدیث کی گہرائی پر فکر انگیز روشنی ڈالی ہے۔
قربانی کا اصل مقصود اور روح
قرآن مجید میں ارشاد ہے: لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے)۔ ڈاکٹر عزیر صاحب نے واضح کیا کہ جانور کی گردن پر چھری چلانے کا مقصد درحقیقت اپنی انا، تکبر اور نفسانی خواہشات کو اللہ کے حکم پر قربان کرنا ہے۔
درس کے بنیادی نکات:
- سنتِ ابراہیمی کی حقیقت: اللہ کی رضا کے لیے اپنی محبوب ترین شے کو قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنا۔
- مستحقین کا خیال: قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غرباء اور مساکین کی عزتِ نفس کا تحفظ۔
- ریاکاری کا خاتمہ: جانوروں کی نمائش اور فخر و غرور کے فتنوں سے بچ کر خالص رضائے الٰہی کی نیت کرنا۔