تحقیقی و فکری مقالہ: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: الرابطة العالمية لخريجي الأزهر – پاکستان برانچ، ڈائریکٹر: المؤسسة العلمية العصرية)

جب غارِ حرا کی پرنور تنہائی میں حضرت جبرائیلِ امین علیہ السلام کلامِ الٰہی لے کر حاضر ہوئے تو حضور خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں نازل ہونے والا سب سے پہلا الٰہی فرمان ایک ایسا لفظ تھا جس نے انسانیت کی کایا پلٹ دی: "اقْرَأْ" (پڑھئے!)۔ یہ محض ایک لفظ نہیں بلکہ جہالت و تاریکی کے خاتمے اور ایک نئے علمی، اخلاقی اور فکری عہد کا باضابطہ اعلان تھا۔

لفظ "اقْرَأْ" کے لغوی و اشتقاقی اسرار

عربی زبان میں مادہ "ق-ر-أ" کا اصل مفہوم بکھرے ہوئے اجزاء کو اکٹھا کرنا، تدبر کرنا اور حقائق کو باہم جوڑنا ہے۔ چنانچہ قرآنی حکم "اقْرَأْ" صرف کاغذی لکیروں کو پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ آفاق و انفس میں پھیلی ہوئی قدرتِ خداوندی کا مطالعہ، کائنات کے اسرار کی تسخیر اور اپنے رب کی وحدانیت کا ادراک ہے۔ پھر جب اس کے ساتھ قید لگائی گئی ﴿بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ تو علم کو خدا ترسی، انسانی ہمدردی اور اخلاقیات کا لازمی حصہ بنا دیا گیا۔

اس پرمعارف خطاب کے نمایاں نکات:

  • علمی انقلاب کی بنیاد: کس طرح ایک لفظ نے ریگزارِ عرب کی اَن پڑھ قوم کو دنیا کی سب سے بڑی سائنسی، اخلاقی اور تمدنی قوت بنا دیا۔
  • قلم کی حرمت اور عظمت: ﴿الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ کے ذریعے تحقیق، تصنیف اور تدوینِ علم کی لازوال اہمیت۔
  • عصری تقاضے اور اقراء کا پیغام: دورِ حاضر میں مسلمانوں کے لیے تحقیق، ٹیکنالوجی اور دینی فہم کو یکجا کرنے کی ناگزیر ضرورت۔

یہ ویڈیو ہر طالبِ علم، معلم اور محقق کے لیے علمی جستجو کی نئی راہیں کھولنے والا ایک انمول تحفہ ہے۔