ڈاکٹر عزیر محمود الازہری
(ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان و صدر ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس پاکستان)
نے کراچی میں حکیم قاضی مشتاق احمد حیدری رحمہ اللہ علیہ کے عرسِ مبارک کی پروقار تقریب میں "غناء (حقیقی مالداری) اور فقر (حقیقی ناداری)" کے فلسفے پر ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا۔

ڈاکٹر عزیر نے سیرتِ طیبہ ﷺ سے ایک ایمان افروز اور تاریخ ساز واقعہ بیان کیا کہ ایک روز حضور نبی کریم ﷺ نے جلیل القدر صحابی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا:

"اے ابو ذر! کیا تم مال و دولت کی کثرت کو غناء (مالداری) سمجھتے ہو؟"
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "جی ہاں، یا رسول اللہ ﷺ!"
پھر حضور ﷺ نے دریافت فرمایا: "اور کیا تم مال کی کمی کو فقر (ناداری) سمجھتے ہو؟"
حضرت ابو ذر نے عرض کیا: "جی ہاں، یا رسول اللہ ﷺ!"

اس موقع پر حضور سید الکونین ﷺ نے نہایت شفقت سے ان کی فکری تربیت فرماتے ہوئے حقیقتِ غناء واضح فرمائی:

"اے ابو ذر! معاملہ یوں نہیں ہے (جیسا تم سمجھتے ہو)۔ اصل مالداری تو دل کا غناء (قناعت و استغناء) ہے، اور اصل فقر و ناداری دل کی محتاجی اور حرص کا نام ہے۔"

ڈاکٹر عزیر نے اس حدیثِ پاک کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ عظیم الشان درس دیا کہ بینک بیلنس یا ظاہری خزانوں کا انبار انسان کو حقیقت میں امیر نہیں بناتا — بلکہ اصل دولت تو یہ ہے کہ انسان کا دل مطمئن اور قناعت پسند ہو۔ اسی طرح بظاہر مال کی قلت انسان کو محتاج نہیں بناتی، بلکہ حقیقی ناداری اور فقر یہ ہے کہ انسان دنیا بھر کی دولت رکھنے کے باوجود لالچ، حرص اور باطنی بے چینی کا شکار رہے۔

whatsapp-image-2025-07-13-at-130406-e044cfc5.jpg

خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر عزیر نے یہ گرانقدر پیغام دیا: حقیقی مالدار وہ ہے جو رب کی دی ہوئی ہر نعمت پر شکر گزار رہے چاہے وہ ایک سوکھی روٹی ہی کیوں نہ ہو — اور اصل محتاج و فقیر وہ ہے جس کے پاس سب کچھ ہو مگر وہ حرص کا مارا کبھی مطمئن نہ ہو سکے اور ہمیشہ مزید کی ہوس میں جلتا رہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قناعت پسندی، باطنی غناء اور شکر گزار دل عطا فرمائے۔ آمین۔