تحریر: ڈاکٹر عزیر محمود الازہری
صدر ورلڈ ایسوسی ایشن آف الازہر گریجوایٹس (پاکستان برانچ)
ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان

محمود آباد، قصور میں خواجہ حضرت شاہ محمد رکن الدین الواری (رحمۃ اللہ علیہ) اور حضرت شاہ مفتی محمد محمود الواری (رحمۃ اللہ علیہ) کے عرسِ مقدس کے پرنور موقع پر ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اپنے متوسلین اور زائرین سے ایک نہایت چشم کشا موضوع پر خطاب فرمایا: "ہمارے معاشرے میں آدھا سچ اور آدھا جھوٹ کا مہلک مرض۔"

انہوں نے اس خوفناک اور تباہ کن بیماری کی نشاندہی فرمائی جو ہمارے معاشرے کے ہر شعبے، ادارے اور فرد کے اندر سرایت کر چکی ہے — یعنی ذاتی مفادات، مالی فائدے یا سیاسی مقاصد کے لیے سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ کرنا۔

قرآنی رہنمائی: سچ اور جھوٹ کو خلط ملط نہ کرو

قرآنِ حکیم کی رہنمائی پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیر نے سورۃ البقرہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی:

«وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ»
(سورۃ البقرہ: 42)
"اور حق کے ساتھ باطل کو نہ ملاؤ اور نہ جان بوجھ کر حق کو چھپاؤ۔"

انہوں نے تاریخی تناظر بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہی خطرناک بیماری بنی اسرائیل اور یہود میں پھیلی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہو چکے ہیں — جن کی بشارت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی — تو وہ اعتراف کرتے کہ "ہاں، محمد (ﷺ) مبعوث ہو چکے ہیں۔" لیکن ساتھ ہی بدنیتی سے جھوٹ کا اضافہ کر دیتے کہ "مگر وہ ہمارے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آئے ہیں، کیونکہ ہم افضل ہیں۔"

1-1.webp

یوں وہ زبان سے سچ کا اقرار تو کرتے مگر دل اور الفاظ میں جھوٹ ملا کر سچائی کو مسخ کر دیتے۔

دورِ حاضر کی مثال: سودی قرضوں کا فریب

ڈاکٹر عزیر نے اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے مباحث اور فیصلوں سے ایک عصرِ حاضر کی مثال پیش فرمائی۔ بظاہر حکومتی قرضے عوام کے لیے ایک سہولت اور نعمت دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جب ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرضے بلاسود نہیں بلکہ سود (ربا) پر مبنی ہیں — جس کی اسلام میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے سود کی ہلاکت خیزی بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"سود کا ایک درہم جو انسان جان بوجھ کر کھاتا ہے، وہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سنگین ہے۔"
(مسند احمد)

اللہ رب العزت نے پہلے نرمی سے تنبیہ فرمائی کہ جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔
4-1

لیکن جب لوگوں نے پھر بھی سود نہ چھوڑا تو اللہ نے جنگ کا اعلان فرمایا:

«فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ»
(البقرہ: 279)
"اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو!"

ڈاکٹر عزیر نے واضح کیا کہ یہ مثال بتاتی ہے کہ کس طرح سچ اور جھوٹ کی ملاوٹ معاشرے کو دین، سیاست اور معیشت ہر میدان میں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے۔

حل اور نجات کا راستہ: تقویٰ اور بصیرتِ فرقان

خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر عزیر نے قرآنِ مجید سے اس بیماری کا اکسیر علاج پیش فرمایا:

«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا»
(الانفال: 29)
"اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں تمیز کرنے والی کسوٹی (فرقان و بصیرت) عطا فرمائے گا۔"

انہوں نے زور دیا کہ تقویٰ (اللہ کا خوف اور باطنی پاکیزگی) ہی وہ واحد کلید ہے جو انسان اور معاشرے کو سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنے والی بصیرت عطا کرتی ہے۔
2-1
 

اس نکتے کو مزید واضح کرنے کے لیے انہوں نے حضرت شاہ مفتی محمد محمود الواری رحمہ اللہ کے پاکیزہ کردار کا واقعہ سنایا کہ اللہ کے اولیاء نے ہمیشہ مکمل سچائی کے ساتھ زندگی بسر کی اور کبھی سچ میں جھوٹ کی آمیزش گوارا نہ کی۔


✅ بنیادی پیغام:
آدھا سچ بظاہر کتنا ہی دلکش کیوں نہ لگے، حقیقت میں وہ پورا جھوٹ ہوتا ہے۔ جو قوم آدھے سچ پر اپنی عمارت کھڑی کرتی ہے وہ بالآخر زمین بوس ہو جاتی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل حق کو تھام کر ہی ہم اپنا اخلاقی، سماجی اور روحانی مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں۔