فکری و تربیتی خطاب: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))

موجودہ دورِ فتن میں نوجوان نسل کے ایمان و یقین کو متزلزل کرنے کے لیے مختلف فکری و نفسیاتی راستوں سے شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس فکر انگیز گفتگو میں واضح کیا ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں الحاد اور تشکیک کے بیج کس تدریج اور طریقہ کار کے ساتھ بوئے جاتے ہیں۔

تشکیک کے بنیادی اسباب اور فکری حربے

شکوک و شبہات اکثر سچی عقلی جستجو کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ادھوری معلومات، مغربی فکری مرعوبیت اور باطنی و قلبی غفلت کے امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے بیان فرمایا کہ کس طرح ظاہری چمک دمک کے پیچھے چھپے ہوئے ملحدانہ نظریات انسان کو اخلاقی اور روحانی انتشار سے دوچار کرتے ہیں۔

اس خطاب کے اہم نکات:

  • فکری مغالطوں کی پہچان: مذہب کے خلاف گھڑے جانے والے باطل استدلال کا علمی اور منطقی توڑ۔
  • ایمانی تربیت اور قلبی صفائی: گناہوں اور غفلت سے دل پر پڑنے والے اثرات کا ازالہ جو شکوک کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
  • علمی بصیرت اور منہجِ اعتدال: الازہر شریف کے فکری و عقلی منہج کی روشنی میں نسلِ نو کو مضبوط فکری بنیادیں فراہم کرنا۔

یہ ویڈیو ہر اس فرد، استاد اور سرپرست کے لیے مشعلِ راہ ہے جو الحادی لہر کے سامنے اپنی اور اپنی اولاد کی فکری و ایمانی حفاظت کا متمنی ہے۔