اصلاحِ معاشرہ و خاندانی تربیت: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ ڈائریکٹر: رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، کراچی)
بچوں کی اسلامی اور اخلاقی تربیت ہر والدین کی سب سے بنیادی اور نازک ترین ذمہ داری ہے۔ دورِ جدید کے فتنوں، انٹرنیٹ کے اثرات اور بدلتے ہوئے معاشرتی رجحانات کے پیشِ نظر والدین اکثر الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ اولاد کی پرورش اور رہنمائی کس انداز میں کی جائے تاکہ وہ نیک، باکردار اور والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بن سکیں۔
عملی نمونہ بننے کی اہمیت:
ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے واضح فرمایا کہ بچے نصیحتوں سے زیادہ اپنے والدین کے عمل اور رویے سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول خوف اور ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے محبت، حلم اور اسلامی اقدار سے مزین ہو، تو بچوں کے دلوں میں خود بخود نیکی اور حیا کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔
تربیتِ اولاد کے اہم رہنما اصول:
- سختی کے بجائے شفقت: نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ بچوں کے ساتھ نرمی، محبت اور عزت کا برتاؤ سکھایا ہے۔ سختی دلوں میں دوری پیدا کرتی ہے۔
- دوستانہ گفتگو اور مشاورت: بچوں کے سوالات اور پریشانیوں کو خندہ پیشانی سے سنیں اور انہیں اعتماد فراہم کریں۔
- دینی ماحول کی تشکیل: گھر میں نماز، تلاوت اور سنتِ نبوی کے عملی نفاذ سے روحانی سکون پیدا کریں۔
- صحبت اور میڈیا کی نگرانی: بچوں کی دوستی اور موبائل کے استعمال پر حکمت و دانائی کے ساتھ نظر رکھیں۔
حاصل کلام:
اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور امانت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کے لیے وقت اور توجہ وقف کریں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو نیک اور فرمانبردار اولاد عطا فرمائے۔ آمین۔