سائنسی و قرآنی تجزیہ: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: الرابطة العالمية لخريجي الأزهر – پاکستان برانچ، ڈائریکٹر: المؤسسة العلمية العصرية)

صدیوں تک انسانی سائنس اس مغالطے میں رہی کہ یہ کائنات جامد اور ساکن ہے۔ لیکن 1929ء میں ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے یہ تاریخ ساز دریافت کی کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے مسلسل دور ہو رہی ہیں اور پوری کائنات ہر لمحہ پھیل رہی ہے—جسے سائنس کی دنیا میں "ہبل کا قانون" (Hubble's Law) کہا جاتا ہے۔

چودہ سو سال قبل کا اعجازِ قرآنی

جدید ترین دوربینوں اور خلائی مشاہدات سے چودہ صدیاں قبل، جب دنیا توہمات کے اندھیروں میں تھی، کلامِ مجید نے سورۃ الذاریات میں دوٹوک الفاظ میں اعلان فرمایا: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ (اور آسمان کو ہم نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور بے شک ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں)۔ عربی زبان و بلاغت کے مطابق لفظ "لَمُوسِعُونَ" اسمِ فاعل ہے جو دوام اور تسلسل کو ظاہر کرتا ہے، یعنی کائنات ایک بار پھیل کر رک نہیں گئی بلکہ مسلسل وسعت پذیر ہے۔

اس تحقیقی درس کے اہم پہلو:

  • سائنسی نظریات اور قرآنی مطابقت: بگ بینگ (Big Bang) اور کائناتی پھیلاؤ کے جدید ترین شواہد قرآنی نص کی سچائی پر کیسے مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔
  • لفظ "مُوسِعُونَ" کی اعجاز آفرینی: نحوی اور لغوی اعتبار سے وسعتِ کائنات کا ابدی اشارہ۔
  • ایمان اور عقل کی ہم آہنگی: قرآن کسی سائنسی تحقیق کا محتاج نہیں بلکہ سائنس کی ترقی خود کلامِ الٰہی کے برحق ہونے کی دلیل بنتی جاتی ہے۔

یہ ویڈیو ایمان، عقل اور جدید سائنسی تحقیق کے شاندار امتزاج پر مشتمل ہے جسے ہر صاحبِ بصیرت کو ضرور سننا چاہیے۔