عقلی و کائناتی جائزہ: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))

جدید مادہ پرست اور ملحدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کائنات، اس کا حسن، کہکشاؤں کی ترتیب اور انسانی وجود محض ایک حادثہ ہے جو خود بخود رونما ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اپنے اس مدلل خطاب میں سائنسی حقائق اور قرآنی براہین کی روشنی میں اس خام خیالی کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔

کائناتی نظم اور خالقِ کائنات کا ثبوت

قرآن پاک فرماتا ہے: فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ (پس نظر دوڑاؤ، کیا تمہیں اس میں کوئی نقص نظر آتا ہے؟)۔ ایٹم کے اندر موجود الیکٹرانز کی گردش سے لے کر اربوں نوری سال پر پھیلی کہکشاؤں تک ہر چیز ایک ریاضیاتی توازن میں جڑی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عزیر صاحب نے واضح کیا کہ ایک سادی سی گھڑی خود بخود نہیں بن سکتی تو یہ پیچیدہ ترین کائنات خود بخود کیسے وجود میں آ سکتی ہے؟

خطاب کے فکری نکات:

  • حُسن و جمال کا مقصد: پھولوں کی خوشبو، پرندوں کے رنگ اور مناظرِ فطرت کا جمال ارتقائی حادثہ نہیں بلکہ خالق کے لطف و کرم کی دلیل ہے۔
  • کائناتی توازن (Fine-Tuning): فزکس کے وہ بنیادی اصول جن میں ذرہ برابر فرق سے بھی زندگی کا وجود ناممکن ہو جاتا۔
  • نوجوانوں کے شکوک کا ازالہ: سائنس اور عقیدہ توحید کی ہم آہنگی واضح کرنا۔