معاشی و فکری رہنمائی: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))

عوام الناس میں اکثر یہ سوال گردش کرتا ہے کہ کیا سال کے بارہ مہینوں میں کوئی ایسا خاص مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ رزق میں غیر معمولی اضافہ فرما دیتا ہے؟ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس اہم سوال کا علمی، فقہی اور روحانی جائزہ پیش فرمایا ہے۔

رزق کا الٰہی ضابطہ اور ماہ و سال

ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ اگرچہ بعض مہینوں کو عبادات اور اجر و ثواب کے اعتبار سے خصوصی فضیلت حاصل ہے، مگر رزق کے دروازے ہر اس شخص کے لیے بارہ مہینے کھلے ہیں جو حلال کمائی کی جستجو اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اسلام میں اصل حیثیت رزق کے حجم سے زیادہ اس میں "برکت" کی ہے۔

رزق میں برکت کے شرعی اسباب:

  • صلہ رحمی اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک: حدیث نبوی کے مطابق جو چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔
  • کثرتِ استغفار: گناہوں سے معافی مانگنا اور رجوع الی اللہ، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بارشیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے۔
  • تقویٰ اور دیانت داری: حرام سے دامن بچانا اور تجارت و ملازمت میں امانت داری کو شعار بنانا۔