اتحادِ امت اور فکرِ کربلا: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))

سید الشہداء نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی لازوال قربانی تاریخِ انسانیت کا وہ درخشندہ باب ہے جس نے حق اور باطل کے معیارات کو ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اپنے اس تاریخی خطاب میں بیان فرمایا ہے کہ ذکرِ حسین رضی اللہ عنہ امت کے لیے باہمی تفرقے کا نہیں بلکہ باہمی امن اور وحدت کا سب سے مضبوط مرکز ہے۔

اصلاحِ امت کا مقصد اور کربلا کا پیغام

امام عالی مقام نے میدانِ کربلا کے سفر کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ یزیدی آمریت، اقربا پروری اور بدعنوانی کے سامنے سر نہ جھکا کر امام حسین نے قیامت تک کے اہل حق کو یہ درس دیا کہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

خطاب کے خاص پہلو:

  • مشترکہ سرمایہ: اہل بیتِ اطہار تمام مسلمانوں کے لیے یکساں واجب الاحترام اور سر کا تاج ہیں۔
  • کردار سازی: نوجوانوں کو حسینی غیرت، عزم اور صبر و استقامت سے آراستہ کرنا۔
  • قیامِ امن کا حسینی اصول: معاشرے میں عدل قائم کیے بغیر پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔