طریقۂ تعلیم و سائنسی یادداشت: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ ڈائریکٹر: رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، کراچی)

ہر طالب علم، حافظِ قرآن اور محقق کو یہ مسئلہ درپیش رہتا ہے کہ جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ کچھ عرصے بعد ذہن سے محو ہو جاتا ہے۔ روایتی رٹا بازی کے مقابلے میں جدید نیورو سائنس نے ایکٹیو ریکال (Active Recall) اور وقفہ دار تکرار (Spaced Repetition) کو یادداشت کا سب سے مؤثر طریقہ ثابت کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری اس لیکچر میں اسلامی تعلیمی تاریخ اور جدید سائنسی تحقیق کو باہم ملا کر علم کو ہمیشہ کے لیے ذہن میں محفوظ رکھنے کا طریقہ سکھاتے ہیں۔

رٹا بازی کی ناکامی اور فہم کا فقدان:
کتاب کو بار بار محض پڑھتے رہنے سے دماغ کو یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ اسے سب کچھ یاد ہو گیا ہے، لیکن امتحان کے وقت معلومات بازیاب نہیں ہو پاتیں۔ یادداشت اس وقت پختہ ہوتی ہے جب دماغ کو محنت کر کے معلومات تلاش کرنے پر مجبور کیا جائے۔

یادداشت کو فولادی بنانے کے نبوی و سائنسی طریقے:

  • خود سے سوال و جواب (Active Recall): سبق پڑھنے کے بعد کتاب بند کر کے خود کو سمجھائیں یا بغیر دیکھے کاغذ پر لکھیں۔
  • وقفے وقفے سے اعادہ (Revision Cycles): بھولنے کے قدرتی عمل کو روکنے کے لیے ایک دن، تین دن، ایک ہفتے اور ایک ماہ بعد سبق کا مختصر اعادہ کریں۔
  • مدارستہ اور دوسروں کو سکھانا: ہمارے اسلاف کی روایت تھی کہ وہ آپس میں تکرار (بحث و مباحثہ) کرتے تھے۔ جب آپ کسی کو بات سمجھاتے ہیں تو آپ کا اپنا فہم پختہ ہو جاتا ہے۔
  • گناہوں سے پرہیز اور طہارتِ فکر: امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا سنہری اصول: علم نور ہے اور اللہ کا نور گناہگار کو نہیں ملتا۔ بے حیائی اور گناہ دماغی صلاحیت کو زنگ آلود کر دیتے ہیں۔

حاصل کلام:
طلبہ اگر ان اصولوں کو اپنی پڑھائی کا حصہ بنا لیں تو کم وقت میں زیادہ اور پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے طلبہ کے حافظے کو قوی اور علم کو نافع فرمائے۔ آمین۔