ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری (ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان و صدر رکن الاسلام جامعہ مجددیہ) نے ٹھٹھہ میں منعقدہ عظیم الشان رحمۃ للعالمین ﷺ کانفرنس کے پرشکوہ اجتماع سے بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ آپ نے اپنے پرمغز خطاب میں احساسِ گناہ اور توبہ کی حقیقت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ نکاح کی عمر کے متعلق شرعی موقف اور جدید فکری مغالطوں کی مدلل وضاحت فرمائی۔

ڈاکٹر عزیر نے صحیح بخاری کی ایک ایمان افروز حدیثِ مبارکہ کا تذکرہ فرمایا:

"ایک شخص بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوا اور عرض کی: ’یا رسول اللہ! مجھ سے ایک حد (گناہ) سرزد ہو گئی ہے، مجھ پر وہ حد جاری فرمائیے۔‘ حضور ﷺ نے اس سے کوئی تفتیش نہ فرمائی۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، چنانچہ حضور ﷺ نے نماز پڑھائی اور اس شخص نے بھی آپ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی۔ نماز کے بعد اس نے دوبارہ وہی بات دہرائی کہ مجھ سے گناہ سرزد ہوا ہے مجھے پاک کیجیے۔ حضور ﷺ نے دریافت فرمایا: ’کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟‘ اس نے عرض کیا: ’جی ہاں!‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’تو اللہ تعالیٰ نے تمہارا گناہ معاف فرما دیا ہے۔‘"

ڈاکٹر عزیر نے واضح کیا کہ یہ صحابی اللہ کی مغفرت اور مصطفیٰ کریم ﷺ کی شفقت کے اس لیے مستحق ٹھہرے کہ ان کے دل میں سچا احساسِ گناہ بیدار تھا اور وہ خود اعتراف کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ جبکہ آج کے معاشرے میں انسان صبح و شام لاتعداد گناہ کرتا ہے مگر اس کا احساسِ زیاں اور باطنی محاسبہ مفقود ہو چکا ہے۔

qw
 

اس حقیقت کو دورِ حاضر کے ایک سلگتے ہوئے مسئلے سے جوڑتے ہوئے انہوں نے پاکستان میں 18 سال سے کم عمر میں نکاح پر پابندی کے متنازع قانون کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے ٹھوس شرعی اور عقلی دلائل کی بنیاد پر اس قانون کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے سادگی سے سمجھایا کہ اس قانون کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب آپ حلال نکاح کو مشکل اور جرم بنا دیں گے تو معاشرے میں زنا، بے راہ روی اور غیر اخلاقی تعلقات کے دروازے خود بخود کھل جائیں گے۔

فکری مغالطوں کا ازالہ: ڈاکٹر عزیر نے واضح کیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کم عمری میں نکاح فرمانا ہرگز اس بات کا شرعی حکم نہیں دیتا کہ ہر شخص اپنی بیٹی کا نکاح 10 یا 12 سال کی عمر میں ہی کرے۔ احادیث میں ایسا کوئی لازمی حکم وارد نہیں ہوا۔ اسلام کا اصل اصول یہ ہے کہ جسمانی اور ذہنی بلوغت کے بعد حلال نکاح کے ذریعے عفت و پاکدامنی کا تحفظ کیا جائے تاکہ معاشرہ برائیوں سے پاک رہے۔

والدین اپنی اولاد کا نکاح 20، 25 یا جو بھی ان کے حالات کے مطابق مناسب ہو، کر سکتے ہیں — لیکن قانون کے ذریعے بلوغت کے بعد جائز نکاح پر پابندی لگانا سراسر اسلامی شریعت کی روح کے منافی ہے۔

کانفرنس میں موجود صوبائی وزیر برائے مذہبی امور سید ریاض حسین شاہ شیرازی کو متوجہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیر نے اپیل کی کہ وہ اس غیر شرعی قانون سازی کے خطرات کا ادراک کریں اور اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

تقریب کے اختتام پر ممتاز عالمِ دین ڈاکٹر کوکب نورانی اوکاڑوی نے کھڑے ہو کر ڈاکٹر عزیر محمود الازہری کی بے باکی، حق گوئی اور جراتِ ایمانی کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور فرمایا کہ ایسی بے باک صداقت اور جراتِ ایمانی صرف اسی شخصیت کا خاصہ ہو سکتی ہے جس کی علمی و روحانی نسبت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ علیہ کے دربار سے جڑی ہو۔

اللہ تعالیٰ شریعتِ محمدی ﷺ کے دفاع کی ان مخلصانہ کاوشوں کو قبول فرمائے اور ہماری نسلوں کی عفت و حیا کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔