حضور نبی اکرم ﷺ — تنقیدی اور منطقی فکر کے اولین داعی اور پیشوا
جامعہ کراچی میں ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری کا فکر انگیز خطاب

ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری (ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان و ڈائریکٹر المؤسسۃ العلمیۃ العصریۃ) نے جامعہ کراچی میں منعقدہ خصوصی میلاد النبی ﷺ کانفرنس میں طلبہ اور اساتذہ کے عظیم الشان اجتماع سے خصوصی خطاب فرمایا۔ آپ کے خطاب کا مرکزی موضوع دورِ حاضر کا سلگتا ہوا فکری مسئلہ تھا: تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور سوال کرنے کی جرات کا حقیقی سرچشمہ۔


❝ تنقیدی سوچ کے بارے میں ایک سنگین فکری مغالطہ ❞

ڈاکٹر عزیر نے اپنے خطاب میں اس عام مغالطے کی نشاندہی فرمائی جو سوشل میڈیا اور بعض نام نہاد روشن خیال دانشوروں کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے کہ گویا تنقیدی فکر (حق و باطل میں تمیز اور سوال اٹھانے کی صلاحیت) مغرب کی جدید سائنسی ایجاد اور لبرل مفکرین کا کارنامہ ہے۔ ڈاکٹر عزیر نے تاریخی اور شرعی دلائل کے ساتھ اس دعوے کو کلیتاً باطل قرار دیا۔


❝ تاریخی حقیقت: نبوتِ مصطفیٰ ﷺ کا احسانِ عظیم ❞

ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ بعثتِ نبوی ﷺ سے قبل انسانیت — بالخصوص جزیرہ نمائے عرب — اندھی تقلید، قبائلی تعصب اور باطل روایات کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ لوگ اچھے اور برے میں تمیز کرنے سے قاصر تھے اور آباؤ اجداد کی رسموں کو بلا چوں و چرا مانتے تھے۔ ایسے مردہ اور فکری طور پر مفلوج معاشرے میں حضور نبی کریم ﷺ نے وہ انقلابی تعلیمات عطا فرمائیں جنہوں نے انسان کو اندھی تقلید سے نکال کر آزادانہ و منصفانہ غور و فکر کا شعور بخشا۔


❝ نبوی تنقیدی فکر کی لازوال میراث ❞

رسولِ کائنات ﷺ نے انسانوں کو سکھایا کہ:

  • ظلم کو ظلم کہو، چاہے وہ تمہارے طاقتور ترین قبیلے اور حاکم کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو،
  • ناانصافی اور جبر کو پہچانو اور اس کے خلاف حق کا علم بلند کرو،
  • حق بات کو قبول کرو، چاہے وہ کسی دشمن کی زبان سے ہی کیوں نہ نکلے،
  • آباؤ اجداد کے غلط عقائد اور رسوم کا دلیل کی بنیاد پر رد کرو جب وہ وحیِ الٰہی کے خلاف ہوں۔

یہ ہے وہ حقیقی تنقیدی فکر جس کی بنیاد سرورِ دوعالم ﷺ نے رکھی — نہ کہ سرکشی اور الحاد کے ذریعے، بلکہ حکمت، الٰہی بصیرت اور اخلاقی شجاعت کے ساتھ۔


❝ نوجوان نسل کے لیے زریں پیغام ❞

ڈاکٹر عزیر نے طلبہ کو تلقین فرمائی کہ وہ مغرب زدہ پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں:

"حقیقی تنقیدی فکر کی بنیاد اس ہستی نے رکھی جس نے فرمایا:
’حق بات کہو چاہے وہ کڑوی ہی کیوں نہ ہو۔‘
اور وہ ہستی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔"

saas
 

✨ حاصلِ کلام

عقل اور دل کو آزادی بخشنے والی سب سے عظیم ذات محسنِ کائنات، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہے، جنہوں نے انسانیت کو مقصدیت، خشیتِ الٰہی اور حکمت کے ساتھ سوچنے اور پرکھنے کا سلیقہ سکھایا۔