عالمی ظلم، جارحیت اور بربریت کے اس سیاہ دور میں — جب مسلم امہ بظاہر بے بس اور مظلوم فلسطینی بھائیوں کے لیے مایوس نظر آتی ہے — ہم اپنے فلسطینی بھائیوں اور اہلِ غزہ کی مدد کے لیے کیا عملی اور بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں؟

یہ وہ سلگتا ہوا بنیادی سوال تھا جس کے گرد المؤسسۃ العلمیۃ العصریۃ میں ایک گہری فکری، تعلیمی اور عملی نشست منعقد ہوئی، جس کی قیادت ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے فرمائی، جبکہ اس نشست میں حکیم سید ظہیر احمد نقشبندی اور صاحبزادہ آغا جنید مجددی جیسی معزز شخصیات بھی جلوہ افروز تھیں۔

اس مجلس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے علماء، وکلاء، دانشوروں اور کمیونٹی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں عامر یعقوب، شیخ محمد محسن، حافظ جمیل، معید صاحب، اویس جعفرانی، حافظ ابراہیم، ایڈووکیٹ ارسلان اشفاق زین، احمد عمران اور محمد عدنان قریشی سمیت دیگر احباب شامل تھے۔

as
 

ڈاکٹر عزیر الازہری نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ اگرچہ براہِ راست میدانِ جنگ میں پہنچنا عام شہری کے لیے ممکن نہیں، لیکن مومن کبھی بے دست و پا اور لاچار نہیں ہوتا۔ سچی اور پردرد دعاؤں سے لے کر باخبر اور مدلل وکالت تک، پرامن بیداری، تعلیمی شعور، مالی امداد، سوشل میڈیا پر حقائق اجاگر کرنے اور بائیکاٹ تک — علم، اتحاد اور باطنی قوت کے ذریعے مزاحمت اور نصرت کا ایک وسیع اور مؤثر میدان ہمارے سامنے موجود ہے۔

assa
 

نشست کا اختتام اس پختہ عزم کے ساتھ ہوا کہ ظلم کے سامنے کبھی خاموش نہیں رہنا، حق کے لیے بولنا اور حتی الامکان عملی اقدام کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، خصوصاً جب معاملہ ارضِ مقدس قبلہ اول اور غزہ کے مظلوم بچوں کا ہو۔