سیالکوٹ میں میونسپل کارپوریشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ پُروقار سیرتِ نبی کریم ﷺ اور امن کانفرنس 2026 میں ڈاکٹر عزیر محمود الازہری (صدر المنظمۃ العالمیۃ لخریجی الأزہر الشریف پاکستان برانچ، ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان و ڈائریکٹر المؤسسۃ العلمیۃ العصریۃ) نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے نہایت دلنشین اور فکری نکتہ بیان فرمایا۔
پیغمبرِ امن ﷺ: کائنات کو ایک لڑی میں پرونے والی ذات

آپ نے سامعین کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’ذرا غور کیجیے! آج ہم سب یہاں کس کے ذکر اور کس کی خوشی منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں؟ محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذکر کے لیے۔ لیکن اس اجتماع میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو آپ ﷺ کو اپنے نبی کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ تو پھر اس سے بڑھ کر نبی کریم ﷺ کے ’پیغمبرِ امن‘ ہونے کی کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ جس عظیم شخصیت کو ماننے والے کھرب ہا دنیا بھر میں موجود ہوں، لیکن آج کی کانفرنس میں آپ کی سیرت اور ولادت کی خوشی منانے کے لیے وہ لوگ بھی ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں جو انہیں مذہبی طور پر اپنا نبی نہیں مانتے؟‘‘

نتیجہ یہ نکلا کہ اس کائنات میں اگر مختلف اذہان، موافق و مخالف کو ایک ہی پلیٹ فارم پر کوئی جمع کر کے دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنا سکتا ہے تو وہ اور کوئی نہیں بلکہ رحمۃ للعالمین، امام الانبیاء، آمنہ کے لال حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔

امن کا تقاضا: توہینِ رسالت اور اشتعال انگیزی کی بیخ کنی

نیز ڈاکٹر صاحب نے اعلیٰ سرکاری افسران اور اربابِ اختیار کو ایک اور نہایت اہم نکتہ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:

جو ہستی پوری دنیا کو امن اور محبت کے پیغام پر جمع کرنے والی ہو، اور تمام انسانیت کے لیے امن کی سب سے بڑی دلیل ہو، اب انہی کی شانِ اقدس میں اگر کوئی شخص توہین آمیز یا اشتعال انگیز حرکت کرتا ہے اور توہینِ رسالت (295-C) کے قوانین سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرتا ہے، تو یہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں بلکہ ایسے فتنہ پرور لوگ ہی اصل میں امن کے کھلے دشمن ہیں۔ انہیں قرار واقعی سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرے میں پائیدار امن و امان برقرار رہے۔

ڈاکٹر صاحب کے ان علمی و فکری نکات کو تمام ہی سامعین نے بے حد سراہا اور پورا ہال حضور نبی کریم ﷺ کی محبت، درود و سلام اور تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھا۔

تمام مکاتبِ فکر، انتظامیہ اور اقلیتی قائدین کا تاریخی اتحاد

اس کانفرنس کی سب سے خوبصورت اور قابلِ رشک بات یہ تھی کہ یہاں صرف مسلمانوں کے کسی ایک مکتبِ فکر یا مسلک کی شخصیات نے شرکت نہیں کی، بلکہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ، سیاسی و سماجی شخصیات، سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر (DC)، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (ADCG)، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) دوست محمد سمیت متعدد اعلیٰ افسران اور ذمہ دار شخصیات کے ساتھ ساتھ ہندو، سکھ اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے سربراہان و مذہبی اکابرین بھی شانہ بشانہ شریک تھے۔