معاشی و فقہی رہنمائی: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))
موجودہ دور میں سودی نظام نے مختلف دلکش ناموں کے ذریعے عوام کو اپنے جال میں جکڑ رکھا ہے۔ آن لائن ایپس، منافع بخش اسکیموں اور قسطوں کے نظام میں چھپے ہوئے سودی معاہدوں نے لاکھوں خاندانوں کو معاشی تباہی اور نفسیاتی اذیت سے دوچار کر دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس اہم موضوع پر مدلل اور بصیرت افروز روشنی ڈالی ہے۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ
قرآن مجید میں سود خوروں کے بارے میں جو سخت ترین تنبیہ آئی ہے وہ کسی اور گناہ کے بارے میں نہیں: فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ (تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو)۔ ڈاکٹر عزیر صاحب نے واضح کیا کہ سود صرف ایک گناہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے استحصال، بے روزگاری اور غربت کی جڑ ہے۔
خطاب کے کلیدی پہلو:
- دھوکہ دہی پر مبنی اسکیموں کا پردہ چاک: آسان قرضوں کے نام پر لوگوں کی جمع پونجی اور عزتیں لوٹنے والے عناصر کی حقیقت۔
- حرام مال کے روحانی اثرات: جس جسم کی پرورش حرام سے ہو وہ دعاؤں کی قبولیت اور دل کے سکون سے محروم رہتا ہے۔
- اسلامی متبادل: باہمی تعاون، قرضِ حسنہ اور حقیقی اسلامی تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت۔