فکری و تربیتی درس: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی عظمت کا سب سے بڑا راز ان کا زندہ اور بیدار ضمیر تھا۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس فکر انگیز بیان میں جائزہ لیا ہے کہ صحابہ کرام کا گناہ، توبہ، احساسِ ذمہ داری اور خوفِ خدا کا احساس کیسا تھا اور آج ہم کن سنگین اخلاقی غفلتوں کا شکار ہیں۔

گناہ پر لرزش اور ہمارا رویہ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مومن اپنے گناہ کو ایسا سمجھتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہو اور ڈر رہا ہو کہ وہ اس پر گر پڑے گا، جبکہ منافق اپنے گناہ کو ناک پر بیٹھی مکھی کی مانند سمجھتا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسا جلیل القدر خلیفہ بھی اپنے عمل پر راتوں کو لرزتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس فرق کو دورِ حاضر کی بے حسی کا اصل مرض قرار دیا۔

بیان کے خاص نکات:

  • احساسِ ندامت کی دولت: گناہ سرزد ہونے پر فوری توبہ اور اصلاح کی تڑپ پیدا کرنا۔
  • معاشرتی ذمہ داری کا احساس: دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھنا اور خود غرضی کا خاتمہ۔
  • مردہ دلوں کا علاج: ذکرِ الٰہی، فکرِ آخرت اور قرآن کے ذریعے اپنے احساس کو دوبارہ بیدار کرنا۔