ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری (صدر المنظمۃ العالمیۃ لخريجي الازہر و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان) نے برطانیہ (UK) میں منعقدہ فکرِ قرآن سیمینار سے خصوصی خطاب فرمایا، جس میں انہوں نے قرآنِ حکیم کی ان آیات پر تفصیلی گفتگو فرمائی جن میں ربِ کائنات بار بار انسان کو جھنجھوڑتا ہے: «أَفَلَا تَعْقِلُونَ» (کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟) اور «أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ» (کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟)۔

ڈاکٹر عزیر نے واضح فرمایا کہ قرآنِ مجید محض چند کلمات کی تلاوت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ کائنات میں تفکر، عقل کے صحیح استعمال اور الٰہی بصیرت کو سمجھنے کی لازوال کتاب ہے۔ انہوں نے تمام شرکاء پر زور دیا کہ وہ قرآن کی صرف ظاہری تلاوت پر اکتفا نہ کریں بلکہ مستند تفسیر کے ساتھ اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھیں، اور سب سے بڑھ کر یہ شعور اپنی اولاد کے دل و دماغ میں راسخ کریں۔

انہوں نے حضور سرورِ دوعالم ﷺ کے اس زریں فرمان کا حوالہ دیا:

"اپنی اولاد کو تین بنیادی باتوں کی تربیت دو: اپنے نبی ﷺ کی محبت، ان کے اہلِ بیت کی محبت، اور قرآنِ مجید کی تلاوت و فہم۔"

خطاب کو سمیٹتے ہوئے ڈاکٹر عزیر نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ہمیں اپنے گھروں کے اندر قرآنی فہم اور اسلامی ماحول پیدا کرنا ہوگا، تاکہ بچپن ہی سے ہمارے نونہالوں کے افکار اور اخلاق قرآنی نور سے منور ہو سکیں اور وہ فکری گمراہیوں سے محفوظ رہ سکیں۔