ایمان و سائنس پر فکری خطاب: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))

جدید فزکس اور آپٹکس بتاتی ہے کہ انسانی آنکھ برقی مقناطیسی طیف (Electromagnetic Spectrum) کا صرف ایک محدود حصہ دیکھ سکتی ہے، جبکہ الٹرا وائلٹ، انفراریڈ اور کائناتی شعاعیں عام نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ چودہ سو سال قبل سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ نے ایسے کائناتی اور نوری مشاہدات بیان فرمائے جو آج کے دور میں حیرت انگیز علمی حقیقت بن کر سامنے آتے ہیں۔

بصارتِ نبوی ﷺ کے مافوق الفطرت انوار

ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے احادیثِ مبارکہ کے شواہد پیش کیے جن میں حضور ﷺ نے فرمایا: إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ (بے شک میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے)۔ آپ ﷺ اپنے پیچھے اسی طرح مشاہدہ فرماتے جیسے سامنے دیکھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ کس طرح جدید سائنس رسول اللہ ﷺ کے معجزاتِ نبوت کو سمجھنے میں معاون بنتی ہے۔

اس خطاب کے خاص پہلو:

  • غیر مرئی شعاعوں کا وجود: روشنی کی وہ اقسام جن کا پتہ سائنس نے بیسویں صدی میں لگایا مگر نبوی انکشافات نے صدیوں پہلے ان کا اشارہ دیا۔
  • ملائکہ اور نوری مخلوقات کا مشاہدہ: نوری دنیا اور مادی کائنات کے باہمی تعلق کا فکری جائزہ۔
  • نوجوانوں کے لیے علمی رہنمائی: سائنس اور معجزات کے مابین تطبیق کے ذریعے ملحدانہ شبہات کا قلع قمع۔