لاہور میں منعقدہ "ذکرِ قرآن و اہل بیت کانفرنس" کے باوقار اجتماع میں ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری (پرنسپل رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، اور ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان) نے قرآنِ حکیم اور اہلِ بیتِ نبوت ﷺ کے لازوال اور گہرے تعلق پر بصیرت افروز خطاب فرمایا۔
ڈاکٹر عزیر نے واضح کیا کہ اہلِ بیتِ کرام کی تمام تر زندگیاں قرآنی احکام اور اخلاقِ نبوی ﷺ کا عملی پرتو تھیں۔ ان کا زہد، تقویٰ، سخاوت اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانے کی لازوال قربانیاں اس بات کی زندہ مثالیں ہیں کہ قرآن پر کس طرح عمل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قرآنِ مجید نے سورۃ الشوریٰ میں قرابت دارانِ مصطفیٰ ﷺ کی محبت کو اجرِ رسالت کے طور پر طلب فرما کر اسے ایمان کی روح قرار دیا ہے۔
حدیثِ ثقلین کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ آقا دو جہاں ﷺ نے امت کے لیے دو ایسے سہارے چھوڑے ہیں جو ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہو سکتے۔ قرآن اللہ کا نازل کردہ ضابطہ حیات ہے اور اہلِ بیت اس ضابطے کی معطر عملی تعبیر ہیں۔
اختتام پر ڈاکٹر عزیر نے اس بات کا اعادہ فرمایا کہ نجات اور فلاح کا راستہ یہی ہے کہ امتِ مسلمہ کتابِ الٰہی کی تلاوت و فہم کے ساتھ ساتھ ساداتِ کرام اور اہلِ بیتِ عظام کی محبت اور نقشِ قدم کو اپنا رہنما بنائے، تاکہ وہ گمراہی اور فتنوں سے محفوظ رہ سکے۔