جدید فقہی و فکری رہنمائی: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور چیٹ بوٹس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ نوجوان طبقہ اب عبادات، نکاح و طلاق اور پیچیدہ فقہی مسائل کے حل کے لیے بھی AI ٹولز کی طرف رجوع کر رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس حساس مسئلے پر ایک جامع اور تحقیقی شرعی مؤقف پیش فرمایا ہے۔
فتویٰ اور ڈیٹا پروسیسنگ کا فرق
ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ اسلامی شریعت میں فتویٰ محض چند الفاظ یا کتابوں کے حوالے جوڑنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ سائل کے حالات، معاشرتی نزاکتوں اور مقاصدِ شریعت کی گہری سمجھ پر مبنی ہوتا ہے جس میں اخروی جوابدہی کا خوف شامل ہے۔ مصنوعی ذہانت فقط انٹرنیٹ کے بے ترتیب ڈیٹا کا خلاصہ نکالتی ہے جس میں الحادی، غیر اسلامی اور غلط نظریات کی آمیزش ہوتی ہے۔
اس خطاب کے اہم نکات:
- مصنوعی ذہانت کی فکری خامیاں: انٹرنیٹ ماڈلز کا خود ساختہ احادیث اور غلط اجماع گھڑنے کا ثبوت۔
- مفتی کے شرائط اور کردار: تقویٰ، بصیرت اور فہمِ احوال جو کسی مشین میں ممکن نہیں۔
- AI کا جائز اور مفید استعمال: لغوی سرچنگ اور معلومات کے جمع کرنے میں مدد لینا جائز ہے، مگر اجتہاد اور فتویٰ جاری کرنا صرف اہل علم کا کام ہے۔