فکری و تربیتی رہنمائی: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ ڈائریکٹر: رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، کراچی)
اکثر طلبہ کے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ کیا پڑھائی کا مقصد محض سالانہ امتحان پاس کرنا ہے یا اس کا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے؟ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری اس اہم نشست میں واضح فرماتے ہیں کہ جب علم کا مقصد محض ڈگری اور امتحانی پرچے تک محدود کر دیا جائے، تو انسان کے اندر تخلیقی صلاحیت اور فکری پختگی ختم ہو جاتی ہے۔
امتحان مرکوز سوچ کا نقصان:
جب طالب علم صرف پیپر کی تیاری کے لیے پڑھتا ہے، تو وہ رٹا لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور امتحان ختم ہوتے ہی سب کچھ بھول جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلامی تہذیب میں علم کو نور، عبادت اور فکری ارتقاء کا زینہ مانا گیا ہے۔
کامیابی کے بنیادی ستون:
- نیت کی درستگی: علم کے حصول کا مقصد اللہ کی رضا، اخلاقی بلندی اور خلقِ خدا کی خدمت ہونا چاہیے۔
- فہم و بصیرت: رٹا لگانے کے بجائے مفہوم کو سمجھ کر ذہن کا حصہ بنانا۔
- کردار سازی اور عمل: حاصل کردہ علم کو اپنی روزمرہ اخلاقی زندگی اور عادات میں ڈھالنا۔
حاصل کلام:
امتحان میں اچھے نمبر ضرور حاصل کریں، مگر اپنی اصل منزل انسانِ کامل بننا رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں کو علمِ نافع اور فکری شعور سے مالامال فرمائے۔ آمین۔