فکری و ایمانی خطاب: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))
آج کا انسان ہزاروں فلسفوں، نظاموں اور نظریات کی بھول بھلیوں میں گم ہے۔ لیکن قرآن حکیم نے اس الجھن کو ایک بنیادی حقیقت سے حل فرمایا ہے: وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ (اور ہم نے اسے دو راستے دکھا دیے)۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اپنے اس پرجوش خطاب میں دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ انسان کے سامنے ہمیشہ دو ہی راستے ہوتے ہیں۔
صراطِ مستقیم اور شیطانی راستے
حضور نبی اکرم ﷺ نے زمین پر ایک سیدھا خط کھینچا اور اس کے دائیں بائیں کئی ٹیڑھی لکیریں کھینچ کر فرمایا: یہ سیدھا راستہ اللہ کا راستہ ہے، اور یہ دائیں بائیں کے راستے شیطان کی راہیں ہیں جن پر وہ گمراہی کی دعوت دے رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ آج ہر نوجوان اور گھرانے کو اپنا محاسبہ کرنا ہے کہ وہ کس راستے پر گامزن ہیں۔
خطاب کے اثر انگیز نکات:
- غیر جانبداری کا فریب: حق اور باطل کی کشمکش میں غیر جانبدار رہنا درحقیقت باطل کی تائید کرنا ہے۔
- مادہ پرستی اور خواہشاتِ نفس کا جال: وہ فتنہ انگیز راستے جو انسان کو دین اور اخلاق سے دور لے جاتے ہیں۔
- صراطِ مستقیم پر استقامت: دنیا کے عارضی فائدوں پر آخرت کے ابدی نفع کو ترجیح دینا اور باکردار زندگی گزارنا۔