عصری داعی کی تیاری کا تربیتی پروگرام: الازہر المنائی کے زیرِ اہتمام پاکستانی ائمہ کے لیے کورس
الرابطۃ العالمیۃ لخريجي الازہر (الازہر المنائی) نے ائمہ اور خطباء کی عالمی اکیڈمی کے اشتراک سے پاکستان کے ائمہ اور خطباء کے لیے خصوصی تربیتی کورس "عصری داعی کی تیاری اور انتہا پسندانہ فکر کا رد" کا باقاعدہ آغاز کیا۔
یہ کثیر روزہ تربیتی کورس متعدد علمی اور پیشہ ورانہ موضوعات پر مشتمل ہے جس کا مقصد منہجِ وسطیت (اعتدال پسندی) کا فروغ، فکری مغالطوں کا ازالہ، اور شرعی و دعوتی مہارتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ اقدام عصرِ حاضر کے چیلنجز کے مقابلے کے لیے ائمہ کو فکری ہتھیاروں سے لیس کرنے کے الازہر کے مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

کورس کے افتتاح پر تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد الدائم ناصر نے پاکستانی ائمہ اور خطباء کا ان کے دوسرے گھر، مصر، میں گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کورس الازہر کے اس عظیم مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد مستند اسلامی تعلیمات کا فروغ اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ موجودہ دور میں انتہا پسندانہ نظریات کے خاتمے اور متشدد گروہوں کے شکوک و شبہات کو بے نقاب کرنے کے لیے مدلل علمی کردار ناگزیر ہو چکا ہے۔ حقیقی اسلامی فکر تمدن ساز اور ترقی و توازن کی ضامن ہے۔
تنظیم کی پاکستان شاخ کے سربراہ ڈاکٹر عزیر محمود الازہری نے علمائے الازہر کی سرپرستی میں تعلیم کے اس موقع پر گہرے تشکر کا اظہار کیا اور الازہر کو اعتدال و توازن کا قلعہ قرار دیا۔ انہوں نے متوازن ازہری منہج کے مطابق درست اسلامی تعلیمات کے ابلاغ کے لیے ایسے پروگرامز کو وقت کی اشد ضرورت قرار دیا۔
کورس کا باقاعدہ آغاز اکیڈمی کے سربراہ ڈاکٹر حسن الصغیر کے خصوصی لیکچر سے ہوا جس کا عنوان تھا: "داعی کی فقہی تشکیل اور دعوت میں فقہی خطاب کا اطلاق۔" انہوں نے عصری داعی کی فکری بنیادوں کی تعمیر اور جدید مسائل سے نپٹنے کے فقہی اصول بیان فرمائے۔

یہ تربیتی اقدام الازہر الشریف اور پاکستان کے درمیان علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، اعتدال پسندی کو فروغ دینے اور باصلاحیت دینی قیادت کی تیاری کی جانب ایک سنگِ میل ہے۔