تزکیۂ نفس و اخلاقی اصلاح: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ ڈائریکٹر: رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، کراچی)
آج کا انسان مادی چمک دمک اور عارضی لذتوں کے سیلاب میں گھرا ہوا ہے۔ اکثر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہر خواہش کو پورا کرنا ہی حقیقی آزادی ہے، حالانکہ درحقیقت خواہشات کی اندھی پیروی انسان کو اپنے ہی نفس کا غلام بنا دیتی ہے۔ اس بصیرت افروز بیان میں ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری روح کو اس قید سے چھڑانے اور حقیقی قلبی سکون پانے کا راستہ واضح فرماتے ہیں۔
خواہشات کی غلامی: سب سے بڑا فریب:
نفسانی خواہشات کی مثال نمکین پانی جیسی ہے، انسان جتنا پیتا ہے پیاس اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات کو خدا بنا لیتا ہے تو اس کی بصیرت سلب ہو جاتی ہے اور وہ گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔
حقیقی آزادی اور روحانی تسکین کا نبوی نسخہ:
- مجاہدۂ نفس: نفس کی ناجائز اور مشتبہ خواہشات کے خلاف شعوری جدوجہد اور خود اعتمادی پیدا کرنا۔
- دنیا کی بے ثباتی کا احساس: یاد رکھیں کہ دنیا کی ہر لذت عارضی اور ختم ہونے والی ہے، جبکہ اللہ کی رضا ابدی ہے۔
- عبادت کی حلاوت کا حصول: دل کو گناہوں کی آلائشوں سے پاک کر کے تلاوتِ قرآن، نماز اور ذکرِ الٰہی کی مٹھاس سے آشنا کرنا۔
- نیک صحبت کا انتخاب: ایسے صالح اور باکردار اہلِ علم کی صحبت اختیار کرنا جو نیکی کی طرف رغبت دلائیں۔
حاصل کلام:
انسان جب ایک اللہ کی بندگی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے، تو وہ دنیا جہاں کی غلامیوں اور نفس کے وسوسوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نفسِ امارہ کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔