بین الاقوامی فکری و اصلاحی نشست: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ رکن: اسلامی نظریاتی کونسل)
بیروت (لبنان) کے دورے کے دوران دیے گئے ایک اہم انٹرویو میں ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے انسانیت کو درپیش سب سے سنگین سوال کا جواب دیا: "دورِ حاضر میں انسان، معاشرے اور اقوام کو ہلاکت، بربادی اور فکری زوال سے کون سی چیز محفوظ رکھ سکتی ہے؟" مادی ترقی کے باوجود آج کا انسان اندرونی بے چینی، انتشار اور اخلاقی پستی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
تباہی کی اصل وجوہات:
ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر نے وضاحت فرمائی کہ کسی بھی قوم کی ہلاکت محض مادی وسائل کی کمی سے نہیں ہوتی، بلکہ جب معاشرے میں عدل کا فقدان ہو جائے، ظلم و زیادتی کو رواج مل جائے اور اللہ کی حدود کو پامال کیا جانے لگے تو زوال مقدر بن جاتا ہے۔
نجات اور حفاظت کے قرآنی اصول:
- رجوع الی اللہ اور تقویٰ: ہر عمل میں خوفِ خدا اور جوابدہی کے احساس کو بیدار کرنا۔
- امر بالمعروف و نہی عن المنکر: معاشرے میں نیکی کی ترویج اور برائیوں پر خاموش رہنے کے بجائے حکمت کے ساتھ اصلاح کی کوشش۔
- عدل و انصاف اور کمزوروں کی دستگیری: مظلوموں کی داد رسی اور عدل پر مبنی معاشرتی نظام کی تشکیل۔
- استغفار اور توبہ: اجتماعی توبہ اور استغفار بلائیں ٹالنے اور حفاظت حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
حاصل کلام:
امن اور سلامتی کا واحد راستہ اسلامی اخلاقیات اور نبوی تعلیمات کی طرف مراجعت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم اور پوری امتِ مسلمہ کو ہر قسم کی ہلاکت اور فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔