جب معاشرے کے ہر گوشے پر ظلم اور ناانصافی کے بادل چھا جائیں اور جبر کو ہی معمول سمجھ لیا جائے، تو ایسے پرآشوب دور میں حق اور دانائی کی آواز اٹھانا نہ صرف ایک نایاب عمل بلکہ ایک ناگزیر فریضہ بن جاتا ہے۔

ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری (ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان و ڈائریکٹر المؤسسۃ العلمیۃ العصریۃ) نے اپنے اس فکری و روحانی خطاب میں اسی سنگین اور دور رس حقیقت کو اجاگر فرمایا ہے۔

اس پرتاثیر خطاب میں ڈاکٹر عزیر الازہری نے قرآنی اصولوں اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ظلم و ستم کے دور میں اہلِ ایمان اور عام شہریوں کی اخلاقی و شرعی ذمہ داریوں پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ آپ نے سامعین کو جھنجھوڑا کہ وہ اپنے ضمیر کو بیدار کریں اور ظالمانہ قوتوں کی اندھی پیروی سے باز رہیں، اور یاد دلایا کہ ظلم پر خاموشی اختیار کرنا حق کے ساتھ صریح غداری کے مترادف ہے۔

انہوں نے کمال حکمت اور وضاحت کے ساتھ زور دیا کہ چاہے باطل کتنا ہی طاقتور ہو اور کفر و ناانصافی کتنی ہی غالب دکھائی دے، علماء، مفکرین اور عام مسلمان سب پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ عدل و انصاف کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، کلمہ حق بلند کریں اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں — قطع نظر اس کے کہ ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔

یہ خطاب درحقیقت ایک روحانی اور انقلابی للکار ہے جو ہمیں گہرے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ایمانی اصولوں پر ثابت قدم رہیں اور کسی دباؤ یا خوف کے تحت اپنے نظریات و اقدار پر سودے بازی نہ کریں۔