روحانی و ایمانی خطاب: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))
قیامت کا دن ہولناکی اور شدتِ پیاس کا دن ہوگا۔ ایسے سخت وقت میں حضور سرورِ کونین ﷺ کے امتیوں کا سب سے بڑا آسرا حوضِ کوثر کا وہ نورانی جام ہوگا جس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس روح پرور بیان میں حوضِ کوثر کی حقیقت، صفات اور ان اعمال کا احاطہ فرمایا ہے جو انسان کو سرکار دو عالم ﷺ کے ہاتھوں کوثر کا جام پینے کا حقدار بناتے ہیں۔
حوضِ کوثر کی سعادت اور شرائط
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرا حوض اتنا وسیع ہے کہ اس کا ایک کنارہ دوسرے سے ایک ماہ کی مسافت پر ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے۔ ڈاکٹر عزیر محمود الازہری نے حدیث پاک کی روشنی میں واضح کیا کہ کن لوگوں کو وہاں سے شرفِ شفاعت حاصل ہوگا اور کن خطاؤں سے بچنا ضروری ہے۔
بیان کے خاص نکات:
- سنتِ نبوی پر استقامت: دین میں خود ساختہ تبدیلیوں سے اجتناب اور رسول اللہ ﷺ کی خالص پیروی۔
- کثرتِ درود و سلام: نبی کریم ﷺ پر محبت کے ساتھ درود بھیجنا جو حوض پر خصوصی توجہ کا ذریعہ بنتا ہے۔
- اخلاقی و عملی تطہیر: حق تلفی، ظلم اور ریاکاری سے اجتناب تاکہ اس مبارک محضر پر شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔