سنتِ نبوی اور استقبالِ رمضان: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ ڈائریکٹر: رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، کراچی)

صحیح احادیث مبارکہ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ آخر اس کی کیا خاص وجہ اور حکمت تھی؟ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اپنے اس فکر انگیز بیان میں شعبان کی فضیلت اور رمضان المبارک کی عملی تیاری کے نبوی طریقے کو کھول کر بیان فرمایا ہے۔

غفلت کے مہینے میں بیداری کا درس:
جب حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس بابت دریافت کیا تو حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ رجب اور رمضان کے درمیان وہ مہینہ ہے جس سے اکثر لوگ غافل رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر فرماتے ہیں کہ جب عام دنیا غفلت میں پڑی ہو، اس وقت عبادت میں مشغول ہونا اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی بلند مرتبے کا حامل ہوتا ہے۔

شعبان کے روزوں کی بنیادی حکمتیں:

  • اعمال کا بارگاہِ الٰہی میں پیش ہونا: شعبان وہ مہینہ ہے جس میں انسان کے سال بھر کے اعمال رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، اور آپ ﷺ نے پسند فرمایا کہ آپ کے اعمال روزے کی حالت میں پیش ہوں۔
  • رمضان کے لیے روحانی و جسمانی تیاری: شعبان میں نفلی روزے رکھنے سے انسان کا جسم اور روح روزے کی عادی ہو جاتی ہے، اور جب رمضان آتا ہے تو انسان پہلے ہی دن سے عبادات میں سرگرم ہو جاتا ہے۔
  • دلوں کی صفائی اور صلح رحمی: شعبان المعظم کا تقاضا ہے کہ بغض، کینہ اور باہمی رنجشیں مٹا کر دل کو کینہ کپٹ سے پاک کیا جائے تاکہ رب کی رحمت متوجہ ہو۔

حاصل کلام:
رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے وہی شخص حقیقی طور پر مستفید ہو سکتا ہے جو پہلے سے تیاری کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ نبوی پر چلتے ہوئے شعبان اور رمضان کی برکتوں سے مالامال فرمائے۔ آمین۔