ایمانی و عقائدی درس: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))
حضور اکرم سرورِ کونین ﷺ کے اہل بیتِ اطہار سے محبت کوئی فروعی یا اضافی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اصلِ ایمان اور روحِ دین ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اہل سنت کے معتدل اور تحقیقی منہج کے مطابق واضح فرمایا ہے کہ اہل بیت سے محبت ہر امتی پر کیوں لازمی اور فرض ہے۔
قرآنی حکم اور احادیثِ مبارکہ
قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى (آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داروں کی محبت کے)۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میرے اہل بیت۔
بیان کے نمایاں نکات:
- محبتِ رسول کا لازمی تقاضا: جس ہستی سے رسول اللہ ﷺ پیار فرمائیں، اس سے پیار کرنا عین تقاضائے بندگی ہے۔
- اعتدال کا راستہ: اہل بیتِ اطہار اور صحابہ کرام دونوں کی بیک وقت تعظیم و محبت ہی صراطِ مستقیم ہے۔
- عملی اتباع: اہل بیت کی سیرتِ طیبہ، تقویٰ، علم اور قربانیوں کو اپنے لیے عملی نمونہ بنانا۔