قرآنی معارف و اسرارِ رمضان: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ ڈائریکٹر: رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، کراچی)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ (البقرہ: 185)۔ ماہِ رمضان المبارک وہ یکتا اور بے نظیر مہینہ ہے جس کو کلامِ الٰہی کے نزول کی سعادت کے لیے منتخب کیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے لیے رمضان ہی کو کیوں چنا گیا؟ اس کے پسِ پردہ کون سی الٰہی حکمت کارفرما تھی؟
تزکیۂ نفس اور کلامِ الٰہی کا باہمی تعلق:
ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے بیان فرمایا کہ روزہ انسان کے اندر حیوانی خواہشات کو دبا کر روحانی صفائی کا اہتمام کرتا ہے۔ جب نفس بھوک اور پیاس سے مغلوب ہو کر پاکیزہ بنتا ہے، تو روح کلامِ الٰہی کے انوار و تجلیات کو جذب کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم نور ہے اور اس نور کو جذب کرنے کے لیے دل کے برتن کی پاکیزگی لازم ہے۔
خطاب کے بنیادی نکات:
- نزولِ قرآن اور شبِ قدر: لوحِ محفوظ سے بیت العزت تک قرآن کا نزول اسی ماہِ مبارک کی بابرکت رات میں ہوا۔
- روزہ اور فہمِ قرآن: روزہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے، اور تقویٰ ہی انسان کے لیے قرآنی فہم کی کنجی ہے۔
- قرآن سے زندہ تعلق: محض رسمی تلاوت کے بجائے قرآنی تعلیمات پر غور و خوض اور ان پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب۔
حاصل کلام:
رمضان درحقیقت قرآن کا مہینہ ہے۔ اس مبارک مہینے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں، اخلاق اور معاشرے کو قرآن کے سانچے میں ڈھالیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کا سچا ادراک اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔