علم الکلام اور فلسفۂ توحید: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))

اگر کائنات کسی خودکار مادی مشین کی طرح کام کر رہی ہوتی تو ایک جیسے حالات میں پیدا ہونے والی ہر چیز بالکل ایک جیسی ہوتی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اربوں انسانوں کے چہرے، آوازیں اور انگوٹھوں کے نشانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور ایک ہی پانی سے سیراب ہونے والے پھلوں کا ذائقہ الگ ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس حیرت انگیز سوال کا عقلی و قرآنی جواب پیش فرمایا ہے۔

تنوع: خالق کی ارادہ و قدرت کا ثبوت

قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ (اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف ہے)۔ ڈاکٹر عزیر صاحب نے واضح کیا کہ تنوع اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ کائنات کا خالق صاحبِ ارادہ ہے، وہ کسی قانون کا مجبور نہیں بلکہ قوانین اسی کے بنائے ہوئے ہیں۔

خطاب کے کلیدی دلائل:

  • ایک پانی، ہزاروں ذائقے: ایک ہی مٹی اور ایک ہی پانی سے نکلنے والے پودوں اور پھلوں کا جداگانہ رنگ اور خوشبو۔
  • انسان کا انفرادی تشخص: اربوں انسانوں میں ہر ایک کا منفرد ہونا مادہ پرستی کے نظریے کو باطل ثابت کرتا ہے۔
  • تضادات کا باہمی ربط: دن اور رات، سردی اور گرمی جیسے متضاد عناصر کا ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر زندگی کے نظام کو چلانا ثابت کرتا ہے کہ ان سب کا چلانے والا ایک ہی ہے۔