بعثتِ نبوی اور حصولِ علم و حکمت
آپ نے قرآنِ مجید کی اس آیتِ مبارکہ سے استدلال فرمایا:
﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةِ﴾
اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں قرآن سنانا، تزکیۂ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم کو بیان فرمایا ہے۔ آج ہم اس محفل میں بیٹھے ہوئے قرآن و سیرت کی بات بھی سن رہے ہیں اور دین کا علم بھی حاصل کر رہے ہیں تو گویا بعثتِ مصطفیٰ ﷺ کا مقصد پورا ہو رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب صحابۂ کرامؓ مسجدِ نبوی ﷺ کے اندر علم کے حلقے بنا کے بیٹھتے اور ایک حلقہ ذکر اور تلاوتِ قرآن کا ہوتا اور دوسرا حلقہ علم سیکھنے سکھانے والوں کا ہوتا تو نبی کریم ﷺ دونوں کی تعریف فرماتے، لیکن "يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ" سے استدلال کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیر محمود الازہری نے فرمایا کہ علم حاصل کرنے اور علم دینے والوں کو نبی کریم ﷺ نے اپنی صحبتِ مبارکہ کے شرف و اعزاز سے نوازا، جو اس بات پر بین دلیل ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ علم حاصل کرنے والوں اور علم تقسیم کرنے والوں سے کیسی بے پایاں محبت فرماتے تھے۔
جامعۃ الازہر اور فروغِ عربی: حکیم سید زبیر احمد نقشبندی کا خراجِ تحسین
محفل سے خطاب کرتے ہوئے حکیم سید زبیر احمد نقشبندی صاحب نے جامعۃ الازہر اور عربی زبان کے فروغ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:
اس موقع پر ڈائریکٹر ICMA نے بھی ڈاکٹر صاحب کے اداروں اور بالخصوص آپ کی علمی و فکری خدمات، عربی زبان اور جامعۃ الازہر کے جامع تعلیمی و فکری نصاب سے بھرپور استفادہ کرنے کی دلی خواہش کا اظہار کیا۔
شرکت کرنے والی مقتدر شخصیات
اس پروقار تقریبِ سعید میں حضرت قبلہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صاحب، حضرت قبلہ پیر آغا فضل ربی صاحب، حضرت قبلہ پیر آغا فضل الرحمن صاحب، قبلہ حکیم سید زبیر احمد نقشبندی صاحب، صاحبزادہ آغا بلال مجددی، آغا سہیل مجددی، آغا جنید مجددی، ڈائریکٹر ICMA سمیت کثیر تعداد میں ممتاز تاجر، سول بیوروکریٹس اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔
محفلِ میلاد کراچی کے تصویری مناظر