سرجانی ٹاؤن، کراچی میں واقع نورانی جامع مسجد، گلشنِ کنیز فاطمہ میں منعقدہ پروقار ختمِ قرآن کی بابرکت محفل سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری (صدر المنظمۃ العالمیۃ لخريجي الازہر پاکستان برانچ و ڈائریکٹر المؤسسۃ العلمیۃ العصریۃ) نے عصرِ حاضر کے پرفتن دور میں قرآن و سنت کو تھامنے کی ناگزیر اہمیت پر بصیرت افروز بیان فرمایا۔

ڈاکٹر عزیر نے اپنے خطاب کا آغاز رسول اللہ ﷺ کے اس مبارک فرمان سے فرمایا:

"جب تک تم اللہ کی کتاب اور میری سنت کو مضبوطی سے تھامے رہو گے، کبھی راہِ حق سے نہیں بھٹکو گے۔"

انہوں نے زور دے کر فرمایا کہ ہر سو فتنوں اور آزمائشوں کے اس سیلاب میں نجات کی واحد اور یقینی راہ صرف اور صرف قرآن و سنت کی سچی پیروی میں مضمر ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ جہاں کہیں بھی قرآنِ مجید کی تلاوت اور اس کا چرچا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے رحمت کے فرشتے اس مقام کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں، اور وہاں مانگی جانے والی دعائیں بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پاتی ہیں۔

دورِ حاضر کے فکری چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے فرمایا:

"آج جب فتنے طوفان کی طرح برس رہے ہیں، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ مستند اور باعمل علماء سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنی نوجوان نسل کو قرآنِ حکیم کی تعلیمات سے مضبوطی سے جوڑیں۔"

ڈاکٹر عزیر نے اولیاءِ کاملین اور اکابرینِ امت کی خدمات کا ذکر کیا جنہوں نے معاشروں کو روحانی طور پر زندہ رکھا، اور اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ آج بعض نام نہاد جعلی پیر اور رہبر جن کے پاس نہ شریعت کا علم ہے اور نہ تصوف کی بصیرت، وہ سادہ لوح مسلمانوں کے عقائد بگاڑ رہے ہیں۔

محفل کا اختتام اس عزم اور دعا پر ہوا کہ والدین اپنی اولاد کو دینِ حق کے قریب کریں گے اور آئندہ نسلوں کو قرآنِ کریم کے سایہ عاطفت میں پروان چڑھائیں گے۔