تربیت اور اخلاقی تزکیے کی اہمیت | ڈاکٹر عزیر محمود الازہری کا جامع خطاب
ڈاکٹر عزیر محمود الازہری
(صدر رکن الاسلام ایجوکیشنل سوسائٹی و صدر ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس پاکستان)
نے جامعہ سلیم حنفیہ، عالمگیر مسجد، کراچی میں "تربیت کی اہمیت" کے حساس موضوع پر منعقدہ خصوصی تربیتی نشست سے جامع خطاب فرمایا۔
ڈاکٹر عزیر نے اپنے فکر انگیز خطاب میں فرمایا کہ دورِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ اور بحران باقاعدہ تربیت کا فقدان ہے۔ آپ نے اپنے ادارے کے اساتذہ اور طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اگر آپ کے علم میں کوئی کمی رہ جائے — مثلاً صرف و نحو، فقہ یا دیگر درسی علوم میں — تو اس کی تلافی ممکن ہے اور وقت کے ساتھ اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ کی تربیت اور کردار سازی میں کوئی رخنہ رہ گیا، تو وہ کسی صورت قابلِ برداشت نہیں۔"
انہوں نے زور دے کر کہا کہ علم کے ساتھ حسنِ تربیت کا ہونا لازمی ہے، کیونکہ اگر تربیت ناقص ہو تو علم انسان کے لیے بارِ گراں بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی کا علم بظاہر کم ہو مگر اس کی تربیت اور اخلاق اعلیٰ ہوں، تو اس کی یہی تربیت اس کی تمام خامیوں کو ڈھانپ کر اسے کامیابی سے ہمکنار کر دیتی ہے۔
تربیت کے وسیع تر مفہوم کو واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیر نے فرمایا کہ تربیت صرف ظاہری رسوم، استاد کے ہاتھ چومنے یا محض تعظیماً کھڑے ہونے کا نام نہیں ہے۔ حقیقی تربیت کا آغاز انسان کی سوچ، نیت اور فکری زاویے سے ہوتا ہے۔ یہ انسان کے بولنے کے انداز، نشست و برخاست، علمی مکالمے اور حتیٰ کہ باوقار انداز میں اختلافِ رائے کرنے کے آداب سکھاتی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ یہ تربیتی سفر تعلیمی ادارے کی چار دیواری سے شروع تو ہوتا ہے مگر وہیں ختم نہیں ہونا چاہیے — بلکہ اسے گھر، محلے اور پورے معاشرے میں پھیلنا چاہیے تاکہ اچھے اخلاق اور پاکیزہ سیرت کا نور چہار سو پھیل سکے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو علمِ نافع کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ترین تربیت سے متصف فرمائے اور ہمیں اپنے معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بنائے۔ آمین۔