اخلاقی و روحانی درس: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ ڈائریکٹر: رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، کراچی)

جب اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے جابر اور متکبر کے پاس بھیجا، جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا، تو حکم فرمایا: فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا (سو تم دونوں اس سے نرم بات کہنا)۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے اس واقعے کی روشنی میں ایک ایسا ایمان افروز درس دیا ہے جو دل کی دنیا بدل دیتا ہے: "اللہ سے سیکھو! اگر ربِ کائنات فرعون کے ساتھ نرمی کا حکم دیتا ہے، تو ہم اپنے کلمہ گو بھائیوں اور مخالفین کے ساتھ سختی اور بدکلامی کے مجاز کیسے ہو سکتے ہیں؟"

سختی سے کبھی دل نہیں جیتے جاتے:
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حق بات منوانے کے لیے غصہ، طنز اور سخت لہجہ ضروری ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر فرماتے ہیں کہ سختی صرف انا کی تسکین کرتی ہے مگر مخاطب کے دل میں ضد اور نفرت پیدا کرتی ہے۔ دین کی تبلیغ اور اصلاحِ احوال کا نبوی طریقہ ہمیشہ نرمی، حلم اور برداشت رہا ہے۔

درس کے اہم اخلاقی نکات:

  • گناہ سے نفرت، گناہگار سے شفقت: برائی کو برا سمجھیں لیکن انسان کی ہدایت کے لیے خلوصِ دل سے دعا اور خیر خواہی کا جذبہ رکھیں۔
  • غصے پر قابو اور حلم کی صفت: اصل بہادر وہ نہیں جو پہلوانی دکھائے، بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے جذبات پر قابو پائے۔ سیرتِ طیبہ میں فتح مکہ اور طائف کے واقعات اس کی روشن مثال ہیں۔
  • برائی کا جواب بھلائی سے: قرآن فرماتا ہے: ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ، برائی کا جواب بہترین انداز میں دو تو تمہارا جانی دشمن بھی گہرا دوست بن جائے گا۔
  • اللہ کی صفتِ حلیم کا مظہر بننا: اللہ تعالیٰ بندوں کی نافرمانیوں کے باوجود فورا گرفت نہیں فرماتا بلکہ توبہ کی مہلت دیتا ہے۔

حاصل کلام:
اسلام دلوں کو فتح کرنے والا دین ہے اور دل صرف حسنِ اخلاق اور نرمی سے جیتے جاتے ہیں۔ آئیے اپنی زبان، گفتگو اور معاملات کو نبوی حلم سے آراستہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حسنِ اخلاق کی دولت سے نوازے۔ آمین۔