لاہور میں منعقدہ "فکرِ قرآن سیمینار" کے باوقار علمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیر محمود الازہری (صدر الرابطۃ العالمیۃ لخريجي الازہر پاکستان برانچ و ڈائریکٹر المؤسسۃ العلمیۃ العصریۃ) نے پاکستان کے قریہ قریہ اور گلی گلی میں پیغامِ قرآن اور زبانِ نبوت ﷺ (عربی زبان) کو عام کرنے کی ناگزیر ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر عزیر نے ایک گہرے فلسفیانہ اور تہذیبی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ "زبان محض بات چیت کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ زبان اپنے ساتھ پوری ایک تہذیب و ثقافت لے کر آتی ہے۔" انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح برطانوی سامراج نے برصغیر پاک و ہند میں انگریزی زبان کو مسلط کیا، اور اس کے نتیجے میں ان کی عریانی، بے حیائی اور مغربی تہذیب نے ہمارے معاشرے میں سرایت کر کے ہماری اخلاقی قدروں کو پامال کیا۔

اس تاریخی تجربے کو دورِ حاضر پر لاگو کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ فرمایا کہ آج دوستی کے لبادے میں سی پیک (CPEC) اور دیگر منصوبوں کے ذریعے چینی زبان و ثقافت کو پھیلانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، جس سے پاکستان کے اسلامی تشخص اور بنیادی اقدار کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

 

whatsapp-image-2025-08-01-at-194814-86e333fd.jpg

 

انہوں نے پرعزم انداز میں اعلان فرمایا کہ ہمارا اصل مشن قرآن اور زبانِ رسول ﷺ کو ہر گھر تک پہنچانا ہے، تاکہ پاکستان میں اسلامی تہذیب کا احیاء ہو اور نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا بول بالا ہو۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں "فکرِ قرآن محافل و دروس" کا جال بچھایا جا رہا ہے تاکہ اذہان و قلوب کو قرآنی بصیرت سے منور کیا جا سکے۔