اسلام اور جدید سائنسی معارف: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ ڈائریکٹر: رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، کراچی)

جب 2016 میں جاپانی سائنسدان یوشینوری اوہسومی کو آٹوفیجی (Autophagy) کے حیاتیاتی نظام کو دریافت کرنے پر طب کا نوبل انعام دیا گیا، تو دنیا دنگ رہ گئی کہ فاقہ کشی اور بھوک کے دوران انسانی جسم کس طرح اپنے مردہ خلیات کو خود ہی صاف کر کے جسم کو بیماریوں سے نجات دلاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری اپنے اس خطاب میں واضح کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے چودہ سو سال پہلے صوموا تصحوا (روزہ رکھو صحت مند ہو جاؤ گے) فرما کر جس حقیقت کی نشاندہی کی تھی، جدید سائنس آج اس کی تصدیق کر رہی ہے۔

آٹوفیجی کیا ہے اور روزے کا اس سے کیا تعلق ہے؟
آٹوفیجی ایک ایسا قدرتی جسمانی عمل ہے جس میں خلیات کینسر کے خطرات، زہریلے مادوں اور خراب پروٹین کو ری سائیکل کر کے نئے اور تندرست خلیے بناتے ہیں۔ جب انسان دن بھر مسلسل کھاتا رہتا ہے تو یہ عمل متحرک نہیں ہوتا، لیکن جب 12 سے 16 گھنٹے کا روزہ رکھا جاتا ہے تو جسم خود بخود اپنی سرجری اور اندرونی صفائی شروع کر دیتا ہے۔

روزے کے سائنسی و روحانی فوائد:

  • کینسر اور سوزش سے بچاؤ: آٹوفیجی کا عمل جسم سے خطرناک جراثیم اور خراب خلیات کو ختم کر کے قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔
  • دماغی اور قلبی سکون: جب پیٹ خالی ہوتا ہے تو دماغ میں شفافیت اور روحانی عبادات میں گہری یکسوئی پیدا ہوتی ہے۔
  • افطار میں اعتدال کی ضرورت: اگر افطار میں تلی ہوئی اور بھاری چیزوں سے پیٹ بھر لیا جائے تو روزے کا یہ طبی فائدہ ضائع ہو جاتا ہے۔ سنت کے مطابق سادگی اختیار کرنا لازمی ہے۔

حاصل کلام:
دینِ اسلام کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔ روزہ بیک وقت روح کی طہارت بھی ہے اور جسمانی بیماریوں سے قدرتی شفا بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کے مطابق رمضان کے فیوض و برکات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔