علمِ اشراط الساعۃ و فکری رہنمائی: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ رکن: اسلامی نظریاتی کونسل)

نبی اکرم رحمتِ دوجہاں ﷺ نے چودہ سو سال قبل اپنی امت کو ایسے پرفتن دور سے خبردار فرمایا تھا جسے سنوات خداعہ (دھوکے اور فریب کے سال) کہا گیا ہے۔ ایک ایسا زمانہ جہاں سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا، خیانت دار کو امین اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا، اور قوم کے سنجیدہ معاملات پر بے وقوف اور نااہل لوگ (رویبضہ) گفتگو کریں گے۔ اس دور میں اپنے دین اور فکر کی حفاظت کیسے کی جائے؟

فتنہ و فریب کی عصرِ حاضر میں حقیقت:
ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے واضح فرمایا کہ دجالی تہذیب کا سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ برائی کو خوبصورت نام دے کر خیر کے روپ میں پیش کرتی ہے اور باطل کو حق کا لبادہ اوڑھا دیتی ہے۔ جب انسان سطحی معلومات اور سوشل میڈیا کی چمک دمک میں الجھ جاتا ہے تو اس کے اندر سے حق و باطل کی تمیز مٹ جاتی ہے۔

فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت کے نبوی طریقے:

  • مستند علم اور اہل سنت کی پیروی: من گھڑت فکری نظریات کے بجائے قرآنی اور نبوی بصیرت کے حامل معتبر علماء کی رہنمائی حاصل کرنا۔
  • سورۂ کہف کی تلاوت اور تدبر: ہر جمعہ سورۂ کہف کی تلاوت انسان کو دجالی فتنوں (ایمان، مال، علم اور اقتدار کے فتنے) سے محفوظ رکھنے کا نور عطا کرتی ہے۔
  • تحقیق کے بغیر بات پھیلانے سے اجتناب: ہر سنی سنائی بات کو آگے بڑھانا گناہ اور معاشرتی انتشار کا سبب بنتا ہے۔
  • گھریلو ماحول میں اسلامی اقدار کا احیاء: اپنے گھر اور بچوں کو بیرونی فکری حملوں سے بچانے کے لیے گھر کو نیکی کا قلعہ بنانا۔

حاصل کلام:
قربِ قیامت کے فتنوں کے تذکرے کا مقصد خوف یا مایوسی پھیلانا نہیں، بلکہ ایمان کی حفاظت، احتیاط اور عمل کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے اور فتنوں سے بچائے۔ آمین۔