معاشرتی اصلاح اور امراضِ قلب: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ ڈائریکٹر: رکن الاسلام جامعہ مجددیہ، کراچی)

آج کا انسان جسمانی بیماریوں، وائرسز اور وبائی امراض سے بچنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرتا ہے اور بے پناہ حفاظتی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ لیکن ایک ایسی خاموش اور جان لیوا بیماری ہے جو ہمارے گھروں، اخلاق اور معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے، اور افسوس کہ اکثر لوگ اس سے بالکل بے خبر ہیں۔ وہ بیماری ہے: روحانی غفلت، قسوتِ قلبی (دل کا سخت ہو جانا) اور اخلاقی بے حسی۔

قسوتِ قلبی کی علامات اور خطرات:
ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے وضاحت فرمائی کہ جب دل سخت ہو جاتا ہے تو انسان پر نصیحت اثر نہیں کرتی، گناہ کا احساس مٹ جاتا ہے اور مظلوم کی چیخ و پکار سن کر بھی دل نہیں پگھلتا۔ قرآنِ کریم نے ایسے دلوں کو پتھر سے بھی زیادہ سخت قرار دیا ہے: ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً۔

اس روحانی بیماری کے مظاہر:

  • بے حسی اور خود غرضی: دوسروں کے دکھ درد کو نظر انداز کر کے صرف اپنی دنیاوی آسائش میں مگن رہنا۔
  • گناہوں پر ندامت کا فقدان: جھوٹ، غیبت اور بددیانتی کو معمولی بات سمجھ لینا۔
  • عبادت میں خشوع کی کمی: نماز، تلاوت اور دعاؤں کا محض بے روح رسم بن کر رہ جانا۔

قرآنی و نبوی علاج:

  • ذکرِ الٰہی کی کثرت: اللہ کے ذکر سے دل نرم ہوتے ہیں اور زنگ اترتا ہے (أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ)۔
  • موت اور قبر کی یاد: موت کی یاد انسان کی نخوت اور دنیا کی محبت کو توڑ دیتی ہے۔
  • یتیموں اور مسکینوں پر شفقت: نبی کریم ﷺ نے دل کی سختی دور کرنے کے لیے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی نصیحت فرمائی۔

حاصل کلام:
معاشرے کا زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب دل مردہ ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے دلوں کو زندہ کر لیں تو ہمارا معاشرہ امن، محبت اور اخوت کا گہوارہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو نرم اور منور فرمائے۔ آمین۔